ہندوستان کے پڑوسی ملک نیپال میں اساتذہ اپنے مطالبات کو لے کر سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ اساتذہ مسلسل نئے اسکول ایجوکیشن ایکٹ لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں پیر (7 اپریل) کو نیپال ٹیچرس فیڈریشن نے ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ یہی نہیں نیپال ٹیچرس فیڈریشن نے ملک کے تمام اساتذہ کو لیٹر بھیجا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنی تمام تر ذمہ داریاں چھوڑ کر کاٹھمنڈو پہنچیں اور احتجاج میں شرکت کریں۔ اساتذہ یونین کی جانب سے ایسے وقت میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے جب پورے ملک میں ثانوی تعلیمی امتحان کی جوابی کاپی کی جانچ کے ساتھ ساتھ نئے داخلے بھی ہونے ہیں۔ نیپال میں 15 اپریل سے نیا تعلیمی سیشن شروع ہو رہا ہے، ایسے میں ہزاروں اساتذہ کا سڑک پر نکل کر احتجاج کرنا تعلیمی نظام کو اثرانداز کرنے والا ہے۔
Teachers have protested today by blowing whistles in the teacher’s movement that started on Chaitra 20.
Photo: Nepal Photo Library pic.twitter.com/vpxh4B1jnM
— Routine of Nepal banda (@RONBupdates) April 6, 2025
اس پورے معاملے میں نیپال کی وزیر تعلیم ودیا بھٹارائی نے ’دی کاٹھمنڈو پوسٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے مسلسل اساتذہ کو بات چیت کرنے کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ وزیر تعلیم کے مطابق انہوں نے فیڈریشن کی چیئرپرسن سے خود بات کی ہے۔ مظاہرین سے بذات خود جا کر ملاقات بھی کی ہے۔ ساتھ ہی وزیر تعلیم نے کہا کہ ٹیچرس فیڈریشن کا کہنا ہے کہ بات چیت کے لیے کچھ نہیں ہے اور ملنے سے انکار کر دیا ہے۔
دریں اثںا احتجاج کر رہے اساتذہ کا کہنا ہے انہیں صرف نیا اسکول ایجوکیشن ایکٹ چاہیے۔ جب تک وہ نافذ نہیں ہوگا اساتذہ اسی طرح احتجاج کرتے رہیں گے۔ فیڈریشن کی چیئرپرسن لکشمی کشور سُبیدی نے کہا کہ ہمیں صرف ایک نئے قانون کی ضرروت ہے۔ واضح ہو کہ پورے نیپال سے 2 اپریل سے ہی کئی اساتذہ کاٹھمنڈو میں جمع ہوئے ہیں اور مسلسل پارلیمنٹ میں نئے اسکول ایجوکیشنل بل کو پاس کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



