چین نے جمعہ کو اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو کے اس بیان پر اعتراض کیا ہے کہ اگلے دلائی لامہ کا انتخاب صرف موجودہ دلائی لامہ ہی کر سکتے ہیں۔ چین ہندوستان پر زور دیا کہ وہ تبت سے متعلق معاملات پر ’احتیاط‘ سے کام لے تاکہ دو طرفہ تعلقات کی بہتری پر اس کے اثرات مرتب نہ ہوں۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے ایک میڈیا بریفنگ میں کرن رجیجو کے تبصروں سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو 14 ویں دلائی لامہ کی چین مخالف علیحدگی پسند نوعیت سے واضح ہونا چاہیے اور شیزانگ (تبت) سے متعلق مسائل پر اپنے وعدوں کا احترام کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ چین تبت کو شیزانگ کا نام دیتا ہے۔
ماؤننگ نے مزید کہا کہ ’’ہندوستان کو اپنے قول و فعل میں احتیاط برتنی چاہیے۔ شیزانگ سے متعلقہ مسائل میں چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرنی چاہیے اور چین ہندوستان تعلقات کی بہتری اور ترقی پر اثر انداز ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔‘‘ واضح رہے کہ کرن رجیجو نے جمعرات کو زور دے کر کہا تھا کہ دلائی لامہ کے جانشین کا فیصلہ قائم کردہ ادارہ اور تبتی بدھسٹوں کے رہنما خود کریں گے،کوئی اور نہیں۔
دونوں ممالک تعلقات میں بہتری لانے کے لیے ہیں کوشاں
رجیجو کے تبصرے چین کے اس بیان کے بعد سامنے آئے تھے کہ دلائی لامہ کے اگلے کسی بھی جانشین کے لیے چین کی منظوری ضروری ہوگی۔ دریں اثنا ہند-چین تعلقات کی بہتری اور ترقی سے متعلق چین کے تبصرے مشرقی لداخ کے تعطل کے بعد چار سال سے زیادہ منجمد رہنے کے بعد تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ہندوستان اور چین دونوں کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہیں۔
دونوں ممالک نے گزشتہ سال روس کے شہر کازان میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے بعد تعلقات بحال کیے، جس کے بعد کئی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں۔ اس سلسلے میں ہندوستانی یاتریوں کے لیے کیلاش اور مانسروور یاترا کا دوبارہ آغاز، جو حال ہی میں شروع ہوا، دونوں ملکوں کی طرف سے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے شروع کیا گیا پہلا قدم بتایا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
