Urdu Conclave 2026

Multiple Attacks on Pak Security Forces: بلوچستان میں بی ایل ایف کے پے در پے حملے، 11 پاکستانی فوجیوں سمیت 13 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ

پاکستانی حکام کی جانب سے بی ایل ایف کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی آفیشل ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

کوئٹہ: بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور مبینہ طور پر ریاستی سرپرستی حاصل کرنے والے عناصر پر کیے گئے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں 11 پاکستانی فوجی اہلکار اور دو مبینہ ریاستی حمایت یافتہ آپریٹو مارے گئے۔ حالانکہ، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

آواران میں پاکستانی فوج کی سڑک سکیورٹی یونٹ پر حملہ

بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، بی ایل ایف کے ترجمان میجر گوہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا کہ 22 اگست کو تنظیم کے جنگجوؤں نے آواران ضلع کے کولواہ-گشکور علاقے میں پاکستانی فوج کی سڑک سکیورٹی یونٹ پر حملہ کیا۔ ترجمان کے مطابق، اس حملے میں پانچ فوجی اہلکار مارے گئے جبکہ تین دیگر زخمی ہوئے۔ بی ایل ایف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سڑک کی تعمیر کے کام میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم کے مطابق، واقعے کے بعد علاقے میں پہنچنے والے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر بھی اس کے جنگجوؤں نے فائرنگ کی۔

پولیس چوکی پر قبضہ، اہلکاروں کو بعد میں رہا کیا گیا

ترجمان نے کہا کہ اسی روز بی ایل ایف کے جنگجوؤں نے شیرین و فرہاد کے علاقے میں ایک پولیس چوکی پر قبضہ کر لیا۔ بیان کے مطابق، چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا، ایک کلاشنکوف رائفل اور دیگر سامان قبضے میں لیا گیا جبکہ چوکی، دو پولیس گاڑیوں اور ایک موٹر سائیکل کو آگ لگا دی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ اس کے بعد حراست میں لیے گئے پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا۔

ناکہ بندی کے دوران دو افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

بی ایل ایف نے مزید دعویٰ کیا کہ بیلہ-ژاؤ روڈ پر ناکہ بندی کے دوران گاڑیوں کی تلاشی کے وقت اس نے دو افراد کو ہلاک کیا، جنہیں تنظیم نے ’’ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ‘‘ کا رکن قرار دیا۔ تنظیم کے مطابق، دونوں کی شناخت ژاؤ کے وازہ باغ کے رہائشی محمد اور ان کے بیٹے ظفر کے طور پر ہوئی۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں سے ہتھیار برآمد کیے گئے اور ان کی موٹر سائیکل کو بھی آگ لگا دی گئی۔ بی ایل ایف نے ظفر پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور پاکستانی فوجی دستوں کے ساتھ تعاون کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

پاکستانی حکام کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا

پاکستانی حکام کی جانب سے بی ایل ایف کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی آفیشل ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read