اتوار کی صبح تک، مٹی کے تودے گرنے سے سوریودے میونسپلٹی میں پانچ ، علم میونسپلٹی میں چھ اور منگ سیبنگ میونسپلٹی میں تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ سیلاب اور بارش کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں۔
گزشتہ چند دنوں سےمسلسل ہورہی شدید بارش نے پڑوسی ملک نیپال میں شدید تباہی برپا کی ہوئی ہے۔ نیپال کے علم میں موسلادھار بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ کئی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ دریں اثنا، انتظامیہ تباہی کے بعد امدادی اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہے ۔
ہلاکتوں کی تعداد میں بھی اضافے کا خدشہ
خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ایس ایس پی پوکھریل کے حوالے سے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ فی الحال نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اب تک ہمارے پاس نقصان اور ہلاکتوں کے بارے میں ابتدائی معلومات موجود ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ علاقوں میں سیکورٹی ایجنسیوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے ۔ اس میں نیپال آرمی ، آرمڈ پولیس فورس اور نیپال پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔ محکمہ موسمیات نے ریاست میں شدید بارش کی وارننگ دی ہے ۔ ندیاں تیزی سے بہہ رہی ہیں۔ سیکیورٹی ایجنسیاں وادی کھاٹمنڈو کے سیلاب متاثرہ میدانی علاقوں سے لوگوں کو بحفاظت نکالنے میں مسلسل مصروف عمل ہیں۔
گھر گھر چلائی جا رہی ہے تلاشی مہم
نیپال کے سیکورٹی ادارے وادی سے گزرنے والے تمام بڑے دریاؤں سے منسلک بستیوں میں گھر گھر تلاشی مہم چلا رہے ہیں۔ وہ گھر گھر جا کر متاثرین کی تلاش کر رہے ہیں اور ان کی مدد کر رہے ہیں۔ متاثرین اور ان کے سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
آبی سطح بڑھنے کا ہے خدشہ
نیپال کے محکمہ آبی اور موسمیات نے دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کا خدشہ جاری کیا ہے۔ باگمتی، منوہرا، دھوبی کھولا، ہنومنتے، بشنومتی، نکھو اور بلکھو ندیوں کے آبی سطح میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ حکام نے وارننگ جاری کی ہے کہ سیلاب شاہراہ کے نزدیک والے علاقوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے لوگوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ سیکورٹی اہلکار لوگوں سے مسلسل اپیل کر رہے ہیں کہ وہ دریاؤں کے کنارے سفر کرنے سے گریز کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
