سنیما کی دنیا کے عظیم اداکار اور ہی مین کہلانے والے دھرمیندر سنگھ دیول کا کل یعنی اتوار 24 نومبر کو انتقال ہو گیا۔ دھرمیندر کافی عرصے سے بیمار چل رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی طبیعت کافی سنگین ہونے پر انہیں 10 نومبر کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں 2 دن وینٹی لیٹر پر رکھنے کے بعد انہیں ڈسچارج دیا گیا۔
برانڈ اینڈورسمنٹ اور بزنس انویسٹمنٹ سے بھی کمائی
اسی دوران کئی لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کروڑوں کی ان کی جائیداد اب کس کے حصے میں آئے گی۔ آئیے جانتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، دھرمیندر نے اپنی زندگی میں تقریباً 400 کروڑ سے زیادہ کی جائیداد بنائی ہے۔ فلمی کیریئر کے علاوہ وہ برانڈ اینڈورسمنٹ اور بزنس انویسٹمنٹ سے بھی کمائی کرتے تھے۔اس کے علاوہ دھرمندر کے نام پر ممبئی میں ایک بنگلہ ہے۔ اسی طرح کھنڈالا اور لو ناولا میں فارم ہاؤس بھی ہے۔ اس کے ساتھ ان کا Garam-Dharam کے نام سے ایک ریستوران بھی ہے، جو کئی شہروں میں موجود ہے۔
اداکار دھرمیندر کی دو شادیاں
اداکار دھرمیندر کی دو شادیاں ہوئی ہیں۔ ان کی پہلی بیوی سے انہیں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، سنی، بابی، اجیتا اور وجیتا دیول۔ جبکہ دوسری بیوی یعنی ہیما مالینی سے انہیں دو بیٹیاں ہیں، عیشہ دیول اور اہانا دیول۔ دو بیویوں اور چھ بچوں کے ساتھ، یہ سوال بالکل جائز ہے کہ آخرکار یہ ساری جائیداد کس کے حصے میں آئے گی۔ تاہم، ہندو میرج ایکٹ کے تحت دوسری شادی کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے، لیکن اس شادی سے پیدا ہونے والے بچے قانون کی نظر میں جائز شمار ہوں گے۔
والدین کی جائیداد پر بچوں کا پورا حق
جہاں تک قانونی طور پر دیکھا جائے تو والدین کی جائیداد پر بچوں کا پورا حق ہوتا ہے، لیکن یہ حق صرف والدین کی جائیداد تک محدود رہتا ہے، نہ کہ باپ کی وراثتی جائیداد پر۔آپ کو بتا دیں کہ دھرمیندر کی جائیداد میں ان کی پہلی بیوی اور بچوں کو برابر کا حصہ ملے گا۔ جبکہ اگر ہیما مالینی کی بات کریں تو انہیں کوئی حصہ نہیں ملے گا کیونکہ ہندو میرج ایکٹ کے مطابق، دھرمندر سے ان کی شادی قانونی طور پر جائز نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




