بالی ووڈ کے معروف فلم ساز واشو بھگنانی اور معروف ڈائریکٹر علی عباس ظفر کے درمیان تنازعہ اب ایک سنگین قانونی موڑ اختیار کر چکا ہے۔ واشو بھگنانی نے فلم ’’بڑے میاں چھوٹے میاں‘‘ کے مالی معاملات کو لے کر علی عباس ظفر پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن کی بنیاد پر ممبئی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے۔
علی عباس ظفر پر الزام ہے کہ فلم کی فنڈنگ میں بے نامی اور آف شور کمپنیوں کا سہارا لیا گیا، جس میں منی لانڈرنگ کا عنصر بھی شامل ہو سکتا ہے۔ واشو بھگنانی کے مطابق ابو ظہبی میں رجسٹرڈ ’’Jolly Jumper Films LLC‘‘ درحقیقت ممبئی کے اندھیری علاقے سے چلائی جا رہی تھی، جس کے ذریعے فلم کی سبسڈی اور ادائیگیاں چینل کی گئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فلم کے بجٹ میں مصنوعی اضافہ کیا گیا، جعلی بل تیار کیے گئے اور سبسڈی کی رقم کا غلط استعمال کیا گیا۔ واشو بھگنانی نے مزید کہا کہ اگر مقامی تحقیقاتی ادارے تسلی بخش کارروائی نہ کر سکے تو وہ یہ معاملہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) اور سی بی آئی (CBI) کے سپرد کریں گے۔ ان کے مطابق فلم کا بجٹ جعلی دستاویزات کی مدد سے 70 سے 80 کروڑ روپے تک بڑھا کر دکھایا گیا اور کئی ادائیگیاں بیرون ملک کمپنیوں کو کی گئیں۔
Vashu Bhagnani alleges money laundering through benami properties by Ali Abbas Zafar, plans to knock doors of ED
Read @ANI Story | https://t.co/saAPqgL2Yv#VashuBhagnani #AliAbbasZafar #ED #moneylaundering #benamiProperties pic.twitter.com/pmTj3wOLCN
— ANI Digital (@ani_digital) September 8, 2025
دریں اثنا علی عباس ظفر نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انھیں واشو بھگنانی سے بقیہ رقم لینی ہے، جس کے لیے انھوں نے قانونی نوٹس بھی بھیج رکھا ہے۔ یہ تنازعہ اب سِول اور فوجداری دونوں عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے۔ ذرائع جت مطابق 400 کروڑ کے بجٹ سے بننے والی فلم ’’بڑے میاں چھوٹے میاں‘‘ کی ناقص باکس آفس کارکردگی اور غیر متوقع طور پر کم کمائی ہی اس تنازعے کی اصل وجہ ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف فلم سازوں بلکہ فلم انڈسٹری کے دیگر افراد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ فلمی دنیا میں مالی شفافیت اور احتساب کے حوالے سے یہ مقدمہ نہایت اہم بن چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

