اداکار دھرمیندر کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے اور وہ گھر واپس آگئے ہیں۔ ان کا گھر سے علاج ہو رہا ہے۔ 13 نومبر کی صبح دھرمیندر کے بیٹے اور اداکار سنی دیول کو دیکھا گیا۔ پاپرازی کو اپنے گھر کے باہر کھڑے دیکھ کر وہ غصے میں آگے۔ سنی دیول ان پر برس پڑے۔ انہوں نے پہلے ہاتھ جوڑے اور پھر غصے کا اظہار کیا۔
سنی دیول پاپرازی پر پھوٹا غصہ
ویڈیو میں سنی دیول یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، “آپ لوگوں کو شرم آنی چاہیے، آپ کے گھر میں والدین ہیں، آپ کے بچے ہیں، اور آپ یہاں صرف ویڈیو بنا رہے ہیں، کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟” سنی دیول کو نیلے رنگ کی شرٹ اور گرے پینٹ میں دیکھا گیا۔ انہو ں نے کالی ٹوپی بھی پہن رکھی تھی۔ غور طلب ہے کہ اداکار دھرمیندر کی گزشتہ کچھ دنوں سے طبیعت خراب ہے۔ انہوں نے بریچ کینڈی اسپتال میں بھی کئی دن گزارے۔ دھرمیندر کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔ اس کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب ان میں کچھ بہتری آرہی ہے ۔ اس لیے ان کے گھر والے ا نہیں گھر لے آئے ہیں۔ دھرمیندر کااب گھر سے علاج ہورہا ہے۔ ڈاکٹر ان کی صحت کی نگرانی کررہے ہیں ۔
मुंबई, महाराष्ट्र: अभिनेता सनी देओल अपने बंगले से बाहर निकलकर पत्रकारों से हाथ जोड़कर अपनी नाराजगी जाहिर की। pic.twitter.com/YurtyQGFL1
— IANS Hindi (@IANSKhabar) November 13, 2025
دھرمیندر کا پورا خاندان بھی اسپتال میں موجود تھا جب وہ اسپتال میں تھے۔ شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان، گووندا اور امیشا پٹیل جیسے اداکار ان سے ملنے گئے۔
ہیما مالنی نے دھرمیندر کی صحت کے بارے میں کہی یہ بات
اداکارہ اور دھرمیندر کی اہلیہ ہیما مالنی نے بھی دھرمیندر کی صحت پر ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “یہ مشکل وقت ہے۔ ہم سب دھرم جی کی صحت کے بارے میں پریشان ہیں۔ ان کے بچے سوئے نہیں ہیں۔ میں اتنی ذمہ داریوں سے کمزور نہیں پڑسکتی۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ گھر واپس آگئے ہیں۔ انہیں اپنوں کے بیچ رہنے کی ضرورت ہے۔”
ایشا نے بھی افواہیں پھیلانے والوں پر غصہ پھوٹا
اس سے قبل ایشا دیول نے بھی اپنے انسٹاگرام ہینڈل پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ دھرمیندر “مستحکم اور صحت یاب ہو رہے ہیں۔” انہوں نے لکھا، “میڈیا بہت زیادہ دباؤ میں ہے اور جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے۔ میرے والد مستحکم ہیں اور صحت یاب ہو رہے ہیں۔ ہم سب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہماری فیملی کو پرائی ویسی دیں۔ پاپا کی جلد صحت یابی کے لیے آپ کی دعاؤں کا شکریہ۔”
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




