Bharat Express DD Free Dish

Molestation Case: ہراسانی کیس: خاتون نے شرد کپور کی گرفتاری نہ ہونے پر اٹھائے سوال، کرائم برانچ کو تحقیقات سونپنے کی مانگ

خاتون نے اپنی شکایت میں بتایا کہ ان کی اور شرد کپور کی ملاقات سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی۔ بات چیت بڑھنے کے بعد اداکار نے کام دلانے کا وعدہ کیا اور شوٹنگ پر بات کے بہانے انہیں کھار کے ایک مقام پر بلایا۔ وہاں پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ یہ کوئی آفس نہیں بلکہ شرد کپور کا گھر ہے، جہاں ان کے ساتھ جبراً ہراسانی کی کوشش کی گئی۔

بالی ووڈ کے اداکار شرد کپور۔

ممبئی: بالی ووڈ کے اداکار شرد کپور پر لگے ہراسانی کے الزامات والا کیس اب سنجیدہ موڑ اختیار کر چکا ہے۔ 32 سالہ خاتون نے اس معاملے میں پولیس کی تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے بومبے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ خاتون نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی تحقیقات کھار پولیس سے ہٹا کر کرائم برانچ کو سونپی جائیں۔ کورٹ نے اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اگلی تاریخ 6 مارچ مقرر کی ہے۔

خاتون کا الزام ہے کہ شرد کپور نے ایک پروجیکٹ پر بات کرنے کے بہانے اسے اپنے گھر بلایا اور وہاں اس کے ساتھ ہراسانی کی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی کھار پولیس اسٹیشن میں اس سلسلے میں شکایت درج کرا چکی ہے، لیکن پولیس غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کر رہی اور جان بوجھ کر ملزم کو بچا رہی ہے، اسی وجہ سے انہوں نے ہائی کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی۔

اس کیس کے سلسلے میں آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے خاتون کے وکیل علی کاشف خان نے کہا، ’’خاتون نے پولیس کمپلینٹ اتھارٹی کے تحت سینئر پولیس انسپکٹر اور تحقیقات افسر کے خلاف پہلے ہی درخواست دائر کی ہے۔ اس کیس کی پچھلی دو سماعتوں میں متعلقہ پولیس افسر عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے، جو خود میں بڑی لاپروائی ہے۔ اسی بنیاد پر ہم نے عدالت سے ان افسران کو معطل کرنے کی مانگ کی ہے۔‘‘

وکیل علی کاشف نے کہا، ’’کیس میں کال ڈیٹیلز، اسکرین شاٹس اور دیگر ڈیجیٹل ثبوت ہونے کے باوجود شرد کپور کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ ایک پولیس افسر نے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے کیسز میں گرفتاری فوراً نہیں ہوتی، جبکہ ایک دوسرے مماثل کیس میں فوری گرفتاری کی گئی تھی۔ پولیس من مانی کر رہی ہے، جو قابل قبول نہیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہے، یہ کسی کی مرضی سے نہیں چلتا۔‘‘

وکیل نے چارجر شیٹ پر بھی سخت الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا، ’’تحقیقات افسران نے اپنی چارجر شیٹ میں لکھا کہ ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ یہ مکمل طور پر جھوٹ ہے۔ اس کے علاوہ، ملزم کو سمن جاری کیا گیا تھا۔ سمن کے اصول کے مطابق، اگر ملزم تحقیقات میں تعاون کرے اور پولیس اسٹیشن آئے تو گرفتاری نہ ہونا الگ بات ہے، لیکن اس کیس میں ملزم نے سمن کی خلاف ورزی کی، نہ صحیح تعاون کیا اور نہ ہی اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔‘‘

یہ تمام وجوہات مدنظر رکھتے ہوئے، خاتون نے ہائی کورٹ میں درخواست دی کہ یہ کیس کرائم برانچ کی ویمن سیل کو منتقل کیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا کہ کھار پولیس نے غلط چارجر شیٹ پیش کی، جس سے کیس کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔

خاتون نے اپنی شکایت میں بتایا کہ ان کی اور شرد کپور کی ملاقات سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی۔ بات چیت بڑھنے کے بعد اداکار نے کام دلانے کا وعدہ کیا اور شوٹنگ پر بات کے بہانے انہیں کھار کے ایک مقام پر بلایا۔ وہاں پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ یہ کوئی آفس نہیں بلکہ شرد کپور کا گھر ہے، جہاں ان کے ساتھ جبراً ہراسانی کی کوشش کی گئی۔

شرد کپور طویل عرصے سے فلم انڈسٹری میں سرگرم ہیں اور 1990 کی دہائی اور 2000 کی ابتدا میں کئی فلموں میں نظر آ چکے ہیں۔ حالانکہ، اب تک شرد کپور کی جانب سے اس معاملے پر کوئی دفتری بیان سامنے نہیں آیا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read