Urdu Conclave 2026

Student of Storytelling: منوہر شیام جوشی: سائنس کا وہ طالب علم جو بن گیا قصہ گوئی کا اُستاد

سال 1980 کی دہائی میں ٹیلی ویژن اسکرین پر’بسّیسر رام‘ کی جھنجھلاہٹ، ’بھگونتی‘ کی قربانی اور آخر میں دادا مُنی یعنی اشوک کمار کی بطور راوی موجودگی… یہ محض ایک ٹی وی پروگرام نہیں بلکہ ایک قومی جنون تھا، جس کا نام تھا ہم لوگ۔ اس جادو کو اپنی قلم سے تخلیق کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ منوہر شیام جوشی تھے۔ یہ بھارت کا پہلا ایسا شو تھا جو سیریل کی شکل میں باقاعدگی سے نشر کیا گیا۔

9 اگست 1933 کو اجمیر میں پیدا ہونے والے منوہر شیام جوشی کی جڑیں الموڑہ، اتراکھنڈ کے ایک تعلیم یافتہ کماؤنی برہمن خاندان سے وابستہ تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندی ادب کے اس بڑے نام نے شروعات ادب سے نہیں بلکہ سائنس سے کی۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے بی ایس سی کرنے والے جوشی کے اندر ایک سائنس دان کی منطقی سوچ موجود تھی۔ اسی لیے جب انہوں نے لکھنا شروع کیا تو اس میں جذباتی مبالغہ آرائی کے بجائے معاشرے کا گہرا تجزیہ نظر آیا۔

زندگی نے نیا موڑ لیا

لکھنؤ میں ان کی زندگی نے نیا موڑ لیا جب ان کی ملاقات ہندی ادب کے نامور ادیب امرت لال ناگر سے ہوئی۔ ان کی رہنمائی میں منوہر شیام جوشی نے سیکھا کہ عظیم ادب وہ ہوتا ہے جو عام آدمی کے دل تک براہِ راست پہنچے۔ یہیں سے ان کے اندر ایک بہترین قصہ گو نے جنم لیا۔ مصنف بننے سے پہلے وہ صحافی تھے۔ آل انڈیا ریڈیو میں کام کرتے ہوئے انہوں نے آواز کی طاقت کو پہچانا اور فلمز ڈویژن میں دستاویزی فلمیں لکھتے ہوئے سنیما کی بصیرت حاصل کی۔ ان کی صحافت کا اہم دور اس وقت آیا جب معروف ادیب اگیہ نے انہیں دنمان کا اسسٹنٹ ایڈیٹر بنایا۔ بعد ازاں جب وہ ساپتہک ہندوستان کے مدیر بنے تو انہوں نے اسے ہر گھر کی پسندیدہ اشاعت بنا دیا۔

’بھارتی سوپ اوپیرا کا بانی‘

اگر بھارت میں ٹیلی ویژن کو ایک طاقتور سماجی ذریعہ بنانے کا سہرا کسی ایک شخص کو جاتا ہے تو وہ منوہر شیام جوشی ہیں۔ 1984 میں 154 اقساط تک نشر ہونے والا ہم لوگ انہیں ’بھارتی سوپ اوپیرا کا بانی‘ بنا گیا۔ منوہر شیام جوشی ہندی ادب کے ایک ’باغی‘  مصنف تھے۔ ان کا پہلا ناول کرو کرو سواہا (1980) آیا تو ادبی دنیا حیران رہ گئی۔ ان کا ناول کسپ ہندی کی خوبصورت اور المیہ محبت کی کہانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ جبکہ کیپ کے لیے انہیں 2005 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے انہیں ہندی کا سب سے ’اختراعی‘ مصنف قرار دیا

سنیما سے دلچسپی کے باعث ان کی تحریروں میں فلمی انداز جھلکتا تھا۔ کمل ہاسن کی فلم ہے رام کے پیچیدہ ہندی مکالمے بھی منوہر شیام جوشی کی ہی تخلیق تھے۔30 مارچ 2006 کو نئی دہلی میں 72 برس کی عمر میں منوہر شیام جوشی نے آخری سانس لی۔اس وقت کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور معروف ادیب خوشونت سنگھ سمیت کئی شخصیات نے انہیں ہندی کا سب سے “اختراعی” مصنف قرار دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read