فیکٹ چیک: انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور اے آئی کے اس دور میں فرضی خبروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین معاملہ ملک کے مشہور ٹیوٹر خان سر کے ریسیپشن ( استقبالیہ) سے متعلق ہے۔ دراصل خان صاحب اپنی شادی کو لے کر کافی چرچے میں ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں پٹنہ میں ایک شاندار استقبالیہ پارٹی رکھی تھی۔ اس استقبالیہ میں کئی نامور رہنما اور مشہور شخصیات نے شرکت کی۔ استقبالیہ کے دوران خان سر کی اہلیہ گھونگھٹ میں تھیں۔ اب اس ریسیپشن سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ خان سر کی اہلیہ نے استقبالیہ کے دوران گھونگھٹ اٹھا کر اپنا چہرہ دکھایا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ یہ وائرل دعوی حقائق کی جانچ میں مکمل طور پر فرضی ثابت ہوا ہے۔
کیا وائرل ہو رہا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر شیو ورما جی پیپے گنج نامی یوزرنے خان سر کے ریسیپشن کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’خان سر کی اہلیہ نے اپنا چہرہ دکھایا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خان سر کی اہلیہ نے گھونگھٹ اٹھا کر اپنا چہرہ دکھایا ہے۔ اس ویڈیوز کو دوسرے پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب، ایکس اور انسٹاگرام پر بھی اسی طرح کے دعووں کے ساتھ بڑی تعداد میں شیئر کیا جا رہا ہے۔
تحقیقات میں کیا انکشاف ہوا؟
خان سر کی اہلیہ سے متعلق وائرل ہونے والے دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے سب سے پہلے ہم نے گوگل اوپن سرچ کی مدد سے خان سر کے ریسیپشن سے متعلق خبریں اور تصاویر دیکھیں۔ ہمیں کہیں بھی ایسی کوئی تصویر یا دعویٰ نہیں ملا ،جو اس بات کی تصدیق کرتا ہو کہ خان سر کی اہلیہ نے گھونگھٹ اٹھا کر اپنا چہرہ دکھایا۔ ایسی صورت حال میں، وائرل ویڈیو کی چھان بین کے لیے، ہم نے ‘undetectable.ai’ نامی AI تحقیقاتی ٹول کا استعمال کیا۔ اس ٹول کے ذریعے دیئے گئے نتیجے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ہے۔
فیکٹ چیک میں کیا نکلا؟
فیکٹ چیک میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خان سر کی اہلیہ سے متعلق جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے وہ AI نے تیار کیا ہے۔ یہ ویڈیو فرضی ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایسی کسی بھی وائرل پوسٹ سے ہوشیار رہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


