Bharat Express DD Free Dish

Dilip Kumar Flirting With Nadira – Aan: مُڑ مُڑ کے نہ دیکھ گرل نادرا، دلیپ کمار کی ہیروئن اور محبوب خان کی فلم آن کی باغی شہزادی

بگڑی ہوئی شہزادی کا کردار پہلے نرگس کو دیا جانا تھا، لیکن تاریخیں نہ ملنے کے باعث یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ اسی دوران محبوب خان کی نظر فرحت پر پڑی۔ ان کی خوبصورتی اور انداز سے متاثر ہو کر محبوب خان نے ان کا نام بدل کر ’نادِرا‘ رکھا

نئی دہلی :ہندی سنیما نے کئی ایسے فنکار پیدا کیے جن کے منفرد انداز اور جاندار اداکاری نے ناظرین کے دلوں پر گہرا نقش چھوڑا۔ انہی میں ایک نام ’مُڑ مُڑ کے نہ دیکھ گرل‘ کے لقب سے مشہور اداکارہ نادرا کا ہے۔ جب بھی بولڈ کردار، بے باک اداکاری اور منفی مگر پراثر رولز کی بات ہوتی ہے تو نادِرا کا ذکر لازمی ہوتا ہے۔ 1950 اور 1960 کی دہائی میں انہوں نے اپنی الگ پہچان بنا کر فلمی دنیا میں خاص مقام حاصل کیا۔ نادرا کی برسی 9 فروری کو منائی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے طویل فلمی کیریئر میں ساٹھ سے زائد فلموں میں کام کیا۔ نادِرا کا اصل نام فرحت ایزکیل تھا اور ان کی پیدائش 5 دسمبر 1932 کو اسرائیل میں ایک یہودی خاندان میں ہوئی۔ بچپن سے ہی وہ ٹام بوائے مزاج رکھتی تھیں اور لڑکوں کے ساتھ کھیل کود میں پیش پیش رہتی تھیں۔ بعد میں جب ان کا خاندان مشکلات کے دور سے گزرتا ہوا ممبئی آیا تو روزگار کی تلاش میں فرحت بھی جدوجہد میں جُت گئیں۔

سال 1952 میں مشہور فلم ساز محبوب خان اپنی فلم ’آن‘ کی تیاری کر رہے تھے۔ اس فلم میں بگڑی ہوئی شہزادی کا کردار پہلے نرگس کو دیا جانا تھا، لیکن تاریخیں نہ ملنے کے باعث یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ اسی دوران محبوب خان کی نظر فرحت پر پڑی۔ ان کی خوبصورتی اور انداز سے متاثر ہو کر محبوب خان نے ان کا نام بدل کر ’نادِرا‘ رکھا اور انہیں دلیپ کمار کے مقابل ہیروئن کے طور پر لانچ کیا۔فلم ’آن‘ میں نادرا نے ایک خوداعتماد اور بے خوف شہزادی کا کردار نبھایا، جو اس دور کی روایتی شرمیلی ہیروئنوں سے بالکل مختلف تھا۔ فلم سپر ہٹ ہوئی اور نادِرا راتوں رات اسٹار بن گئیں۔ اس کے بعد ’نغما‘، ’وارث‘، ’ڈاک بابو‘، ’رفتار‘ اور ’جلن‘ جیسی فلموں میں وہ نظر آئیں، لیکن اصل شہرت انہیں 1956 میں راج کپور کی فلم ’شری 420‘ سے ملی۔ اس فلم کے گانے ’مُڑ مُڑ کے نہ دیکھ‘ نے انہیں ہمیشہ کے لیے ’مُڑ مُڑ کے نہ دیکھ گرل‘ بنا دیا۔

نادرا نے زیادہ تر فلموں میں منفی یا چالاک کردار ادا کیے، جہاں وہ اپنی اداؤں سے ہیرو کو جال میں پھنسا لیتی تھیں۔ ’کالا بازار‘، ’دل اپنا اور پریت پرائی‘، ’پاکیزہ‘، ’جولی‘ اور ’ساگر‘ جیسی فلمیں ان کے یادگار کاموں میں شامل ہیں۔ انہوں نے اشوک کمار، شمی کپور اور دیو آنند جیسے بڑے ستاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔80 اور 90 کی دہائی میں بھی نادرا فلموں اور ٹیلی ویژن میں سرگرم رہیں۔ ان کی ذاتی زندگی نشیب و فراز سے بھری رہی اور دونوں شادیاں زیادہ عرصہ نہ چل سکیں۔ 9 فروری 2006 کو نادرا اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، مگر ان کی بے باک اداکاری، منفرد انداز اور ’مُڑ مُڑ کے نہ دیکھ‘ والی ادا آج بھی ہندی سنیما کی تاریخ میں زندہ ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read