نئی دہلی: 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ بالی ووڈ اداکارہ جیکلین فرنانڈیز کی جانب سے سرکاری گواہ (اپروور) بننے کی درخواست پر پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 8 مئی کو ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے عدالت سے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا اور جیکلین فرنانڈیز کی درخواست کی مخالفت بھی کی۔ سماعت کے دوران ای ڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ اداکارہ کی جانب سے داخل کی گئی درخواست بے بنیاد ہے، جس پر عدالت نے ایجنسی کو اضافی وقت دے دیا۔
سکیش چندرشیکھر کیس سے جڑا معاملہ
یہ پورا معاملہ مبینہ ٹھگ سکیش چندرشیکھر سے متعلق ہے، جس پر 200 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات ہیں۔ تحقیقات کے دوران ای ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ سکیش نے دھوکہ دہی سے حاصل رقم سے جیکلین فرنانڈیز کو کئی مہنگے تحائف دیے، جس کی بنیاد پر انہیں بھی اس کیس میں ملزم بنایا گیا۔
جیکلین فرنانڈیز کا موقف
جیکلین فرنانڈیز نے حال ہی میں عدالت میں درخواست دے کر کہا تھا کہ وہ اس کیس میں سرکاری گواہ بننا چاہتی ہیں اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ای ڈی نے اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال ان کی درخواست قبول کرنے کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ انہیں سکیش چندرشیکھر کی اصل حقیقت کا علم نہیں تھا اور اس نے خود کو ایک بڑے کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کرکے انہیں گمراہ کیا۔ یہ کیس 2021 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب دہلی پولیس کی اقتصادی جرائم کی شاخ نے سکیش چندرشیکھر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ بعد میں اس کی تفتیش ای ڈی کو سونپ دی گئی، جس نے منی لانڈرنگ کے زاویے سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا۔ اب 8 مئی کو ہونے والی اگلی سماعت میں یہ طے ہوگا کہ جیکلین فرنانڈیز کی سرکاری گواہ بننے کی درخواست منظور کی جاتی ہے یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

