ممبئی: معروف آنجہانی اداکار اے کے ہنگل پردے پر اکثر بزرگ، والد، چچا یا عام آدمی کے کردار میں نظر آتے تھے، لیکن حقیقی زندگی کی ان کی داستان کسی فلم سے کم نہیں تھی۔ آج لوگ انہیں فلم ’شعلے‘ کے رحیم چاچا اور ان کے مشہور مکالمے ’’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی‘‘ کے لیے جانتے ہیں، مگر سنیما کی دنیا تک پہنچنے سے پہلے ہنگل نے آزادی کی جدوجہد، جیل، تھیٹر اور درزی کے پیشے سے وابستہ ایک طویل سفر طے کیا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ ان کے والد سرکاری ملازمت میں تھے اور چاہتے تھے کہ بیٹا بھی سرکاری نوکری کرے، لیکن ہنگل نے محفوظ ملازمت کے بجائے اپنی الگ راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
آزادی کی تحریک سے بھی وابستہ رہے ہنگل
اے کے ہنگل کا پورا نام اوتار کشن ہنگل تھا۔ ان کی پیدائش 1 فروری 1914 کو سیالکوٹ میں ہوئی تھی، جو اب پاکستان میں ہے۔ ان کا بچپن اور جوانی پشاور میں گزری۔ خاندان کا ماحول ایسا تھا کہ سرکاری ملازمت ان کے لیے ایک فطری راستہ ہو سکتی تھی، لیکن ہنگل کا رجحان شروع ہی سے مختلف تھا۔ وہ کم عمری میں ہی آزادی کی تحریک سے وابستہ ہو گئے تھے۔ 1929 سے 1947 کے درمیان انہوں نے آزادی کی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا۔
سرکاری ملازمت کے بجائے درزی کا کام سیکھا
ہنگل نے سرکاری ملازمت کے بجائے درزی کا کام سیکھا اور پشاور میں درزی بن گئے۔ ان کا یہ کام صرف روزی روٹی تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے وہاں کام کرنے والے دوسرے درزیوں کی مشکلات کو سمجھا اور ان کے لیے مزدور یونین بنانے کی کوشش کی۔ وہ مزدوروں کو منظم کرنے اور ان کے حقوق کی آواز اٹھانے میں مصروف رہے۔ بعد میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ آزادی کے مجاہد تھے اور سرکاری ملازمت نہیں کرنا چاہتے تھے۔
درزی کے ساتھ تھیٹر کا شوق بھی جاری رہا
درزی کا کام کرتے ہوئے بھی ان کا دل رنگ منچ میں لگا رہتا تھا۔ 1936 میں وہ پشاور کے ایک تھیٹر گروپ سے وابستہ ہوئے اور ڈراموں میں اداکاری کرنے لگے۔ آزادی کی تحریک کے ساتھ ساتھ تھیٹر بھی ان کی زندگی کا اہم حصہ بنتا گیا۔1940 کی دہائی میں وہ کمیونسٹ اور مزدور تحریکوں سے بھی وابستہ رہے۔ اسی وجہ سے انہیں کراچی میں جیل بھی جانا پڑا۔ جیل سے رہائی کے بعد وہ ہندوستان آ گئے اور ممبئی میں سکونت اختیار کرلی۔
52 سال کی عمر میں فلمی دنیا میں قدم رکھا
ممبئی آنے کے بعد ہنگل نے تھیٹر کو سنجیدگی سے اپنایا۔ وہ انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن سے وابستہ ہوئے، جہاں انہیں بلراج ساہنی اور کیفی اعظمی جیسے فن کاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ تقریباً ڈیڑھ دہائی تک تھیٹر میں کام کرنے کے بعد انہوں نے فلموں کا رخ کیا۔ جب وہ فلمی دنیا میں پہنچے تو ان کی عمر 52 سال تھی۔ 1966 میں باسو بھٹاچاریہ کی فلم ’تیسری قسم‘ سے انہوں نے ہندی فلموں میں قدم رکھا۔
’شعلے‘ کے رحیم چاچا نے بدل دی شناخت
52 سال کی عمر میں فلمی کیریئر شروع کرنا اس دور میں بھی آسان نہیں تھا، لیکن ہنگل نے بہت جلد اپنی الگ جگہ بنا لی۔ ’گڈی‘، ’باورچی‘، ’ابھیمان‘، ’نمک حرام‘، ’چپکے چپکے‘، ’آندھی‘، ’تپسیا‘، ’شوقین‘، ’اوتار‘ اور ’ارجن‘ جیسی فلموں میں انہوں نے ایسے کردار ادا کیے جو کہانی کو مضبوط بناتے تھے۔ راجیش کھنہ کے ساتھ بھی انہوں نے کئی فلموں میں کام کیا۔ ان کے کردار اکثر عام آدمی کے ہوتے تھے، لیکن ان کی اداکاری اتنی مؤثر ہوتی تھی کہ ناظرین انہیں آسانی سے بھلا نہیں پاتے تھے۔
پھر 1975 میں ریلیز ہونے والی فلم ’شعلے‘ نے ان کی شناخت ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ فلم میں انہوں نے رحیم چاچا کا کردار ادا کیا اور ان کا مکالمہ ’’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی‘‘ آج بھی ہندی سنیما کے یادگار مکالموں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے 200 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ فلم ’لگان‘ میں شمبھو کاکا کا کردار بھی ان کے یادگار کاموں میں شامل رہا۔
پدم بھوشن سے بھی نوازے گئے
2006 میں ہندوستانی سنیما میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے انہیں پدم بھوشن سے نوازا۔ ہنگل نے ٹیلی ویژن پر بھی کام کیا اور اپنے کیریئر کے آخری دور میں ’مدھوبالا: ایک عشق ایک جنون‘ میں نظر آئے۔ 2012 میں ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ 26 اگست 2012 کو ممبئی میں ان کا انتقال ہو گیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
