کمل ہاسن کے بیان پر تنازع جاری
بیلگاوی: اداکار اور سیاست دان کمل ہاسن کے بیان ’کنڑ زبان تمل سے نکلی ہے‘ پر تنازعہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ پیر کے روز کرناٹک رکشنا ویدیکے (شیوارامے گوڑا دھڑے) کے مظاہرین نے متنازعہ تبصرہ کے خلاف بیلگاوی میں احتجاج کیا۔ مظاہرین نے کمل ہاسن کی کراس والی تصویر کے ساتھ نعرے لگائے اور غصے کا اظہار کیا۔ سڑک بلاک کرکے دھرنے پر بیٹھے مظاہرین نے نہ صرف کمل ہاسن کے بیان کی مذمت کی بلکہ اے ’’انتہائی غلط‘‘ بھی قرار دیا۔
مظاہرین نے چنامہ سرکل سے ڈی سی آفس تک احتجاجی مارچ کیا اور ضلعی انتظامیہ سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں شامل لوگوں نے اسے کنڑ زبان اور ثقافت کی توہین قرار دیا۔ احتجاج میں شامل ایک شخص نے کہا، ’’انہوں نے یہ کہہ کر غلط کیا ہے کہ کنڑ زبان تمل سے نکلی ہے۔ ہم انہیں آخری بار خبردار کر رہے ہیں۔‘‘
ایک اور نے کہا، ’’اگر آپ کرناٹک میں غیر زبان بولتے ہیں، تو ہم آپ کا اپنے طریقے سے استقبال کریں گے۔ اگر آپ کرناٹک میں بات کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ اس ریاست میں آنا چاہتے ہیں، تو آپ کو کنڑ ہی بولنا پڑے گا۔ اپنی زبان اپنے گھر میں ہی رکھو۔‘‘
کنڑ حامی کرناٹک رکشنا ویدیکے کے کارکنوں نے بنگلورو میں کمل ہاسن کی فلم ’ٹھگ لائف‘ کے پوسٹرز کو پھاڑ دیا اور فلم پر ریاست بھر میں ممکنہ پابندی کی وارننگ دی۔ اس سے قبل بنگلورو میں مشتعل لوگوں نے اداکار کی تصویر کو جلا دیا تھا۔ بسویشور نگر پولیس نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا اور بی این ایس کی دفعہ 270 اور 283 کے تحت ایف آئی آر درج کی۔
قابل ذکر ہے کہ اداکار کمل ہاسن ’ٹھگ لائف‘ کی تشہیر کے دوران زبان سے متعلق اپنے تبصروں کو لے کر تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔ 28 مئی کو چنئی میں ایک پروگرام کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ’’کنڑ کی پیدائش تمل سے ہوئی‘‘۔
ان کے اس متنازعہ تبصرہ کی کرناٹک کے کئی حصوں کے ساتھ ساتھ دیگر حصوں میں بھی مخالفت کی گئی۔ عام لوگوں کے علاوہ سیاسی لیڈران بھی ہاسن سے ناراض نظر آئے۔ بی جے پی اور کنڑ حامی گروپوں نے ان کے بیان کی مذمت کی اور غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

