ریسرچ
نئی دہلی: دن بھر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے لوگ اکثر چائے کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن، یہ چائے نہ صرف تھکاوٹ کو دور کرتی ہے، بلکہ ہمیں کئی بیماریوں سے بھی بچاتی ہے۔ حال ہی میں ایک ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چائے خصوصاً گرین ٹی اور بلیک ٹی نہ صرف کینسر جیسے سنگین امراض کے خطرے کو کم کرسکتی ہے بلکہ دل، ذیابیطس، گٹھیا اور دماغ سے متعلق امراض میں بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔
امریکن نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق چائے کی پتیوں میں پائے جانے والے پولی فینول خاص طور پر ای جی سی ڈی نامی عنصر جسم میں سوزش کو کم کرتے ہیں، خلیات کو ٹوٹنے سے روکتے ہیں اور خطرناک عناصر سے لڑتے ہیں۔
چائے پینے سے کینسر کا خطرہ ہوتا ہے کم
ریسرچ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جو لوگ روزانہ 3 سے 5 کپ گرین ٹی یا بلیک ٹی پیتے ہیں ان میں کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ چائے جلد کے کینسر، پروسٹیٹ کینسر، پھیپھڑوں کے کینسر اور یہاں تک کہ بریسٹ کینسر پر بھی کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔ لیکن، بہت گرم چائے پینا فائدے نہیں، نقصان زیادہ ہوتا ہے۔
جسم میں خراب کولیسٹرول کو کم کرتی گرین ٹی
چائے نہ صرف کینسر بلکہ دل کی بیماریوں میں بھی فائدہ مند ہے۔ گرین ٹی جسم میں خراب کولیسٹرول کو کم کرتی ہے، چربی کو باہر نکالنے میں مدد دیتی ہے اور دل کی شریانوں کو صاف رکھنے میں مددگار ہے۔ گرین ٹی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی ایک اچھا آپشن ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔
خالی پیٹ چائے جسم کو پہنچا سکتا ہے نقصان
اس کے علاوہ پارکنسنز جیسے امراض میں بھی چائے کا استعمال فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ، بہت زیادہ چائے پینا، خاص طور پر خالی پیٹ یا زیادہ چینی کے ساتھ، بھی جسم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر اسے صحیح طریقے سے، توازن کے ساتھ پیا جائے تو چائے نہ صرف دن کا آغاز کرتی ہے بلکہ آپ کی زندگی کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس پر بڑے پیمانے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
