Bharat Express DD Free Dish

Cancer

اس موقع پر HBCH&RC کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آشیش گلیا نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 18 سال کی عمر سے باقاعدگی سے خون عطیہ کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند شخص کے لیے خون عطیہ کرنا مکمل طور پر محفوظ اور سائنسی عمل ہے۔ یہ سماجی خدمت کے ساتھ کسی بے گناہ کی زندگی بچانے کا سب سے آسان اور مؤثر طریقہ بھی ہے۔

کینسرسے جدوجہد کرتی ہوئی دیپیکا ککڑ اس وقت اپنے کافی مشکل دور سے گزر رہی ہیں۔ اسی درمیان انہوں نے اپنی بلڈ ٹسٹ کی رپورٹس شیئر کی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اداکارہ کی اب کیسی حالت ہے۔

چائے نہ صرف کینسر بلکہ دل کی بیماریوں میں بھی فائدہ مند ہے۔ گرین ٹی جسم میں خراب کولیسٹرول کو کم کرتی ہے، چربی کو باہر نکالنے میں مدد دیتی ہے اور دل کی شریانوں کو صاف رکھنے میں مددگار ہے۔ گرین ٹی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی ایک اچھا آپشن ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔

کینسر آج کے دور کی سب سے خطرناک اور مہلک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ یہ جسم کی ان خلیات (سیلز) میں ہوتا ہے جو اچانک تیزی سے بڑھنے اور پھیلنے لگتی ہیں۔ عام خلیات ایک حد تک ہی بڑھتے ہیں،

سرکار نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ’’نیشنل پروگرام فار کنٹرول آف نان کمیونیکیبل ڈیزیزز‘‘ (NP-NCD) شروع کیا ہے۔

اس سے پہلے کی تحقیق سے پتہ چلا تھا کہ کروموسوم 16 پر موجود SDR42E1 جین میں ایک خاص میوٹیشن کے وجہ سے وٹامن ڈی کی کمی ہو سکتی ہے۔ اس میوٹیشن سے جین کا پروٹین چھوٹا اور غیر فعال ہو جاتا ہے۔

لینسیٹ کی اس رپورٹ کے مطابق سال 2022 میں پھیپھڑوں کے کینسر کے 53 سے 70 فیصد کیس ان لوگوں میں دیکھے گئے جو سگریٹ نہیں پیتے۔

پولیس افسران نے بتایا کہ 2009 بیچ کے انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) افسرنے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) کے اندرمبینہ طورپراپنے سرکاری ریوالور سے خود کوگولی مارلی، جہاں اس کی بیوی کی موت ہو گئی۔

تحقیق کے مطابق ماؤتھ واش میں بعض مرکب مالیکیولز کا استعمال بعض کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب آپ الکحل پر مشتمل ماؤتھ واش استعمال کرتے ہیں تو اس کے کچھ مضر اثرات ہو سکتے ہیں جیسے منہ میں جلن یا درد۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دانستہ یا نادانستہ ہر نواں ہندوستانی کینسر کا شکار ہے۔ اور یہاں کینسر کے مریضوں کے 80 فیصد کیسز میں تاخیر نے ہزاروں لوگوں کی جانیں لے لی ہیں۔ اگر کینسر کے مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج ہو جائے تو بہت سی جانیں بچ جائیں گی۔