Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


بھارت خام تیل درآمد کرتا ہے اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ امریکہ بھی ان ممالک میں شامل ہے جو بھارت سے ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات خریدتے ہیں۔

ایک نجی نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں امت شاہ نے کہا:"دھنکڑ کا استعفیٰ خود میں واضح ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں صحت کی خرابی کو وجہ بتایا ہے اور اپنی شاندار مدتِ کار کے لیے وزیراعظم، وزراء اور حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔"

یہ دورہ صرف سفارتی سطح پر بات چیت کا موقع نہیں بلکہ دو جغرافیائی طور پر دور ممالک کے درمیان ایک گہری شراکت داری اور ثقافتی ہم آہنگی کا اظہار بھی ہے۔ وزیر اعظم مودی اور وزیر اعظم سیٹوینی لِگامامادا رابوکا کی ملاقات نہ صرف موجودہ تعلقات کو مضبوط کرے گی بلکہ مستقبل میں تعاون کے نئے دروازے بھی کھولے گی۔

کے دفتر نے کہا: "میک اِن انڈیا کی کامیابی کی ایک بڑی مثال کے طور پرپی یم او ای وٹارا کا افتتاح کریں گے اور اسے برآمد کے لیے روانہ کریں گے۔"

ایئرپورٹ کے آس پاس بھی شدید پانی جمع دیکھا گیا۔ چانکیاپوری اور دوارکا جیسے پوش علاقوں میں بھی نکاسی آب کی ناقص صورتحال کھل کر سامنے آ گئی۔ دہلی کے آئی ٹی او علاقے میں بھی بارش کے باعث سڑکوں پر پانی بھر گیا۔

مودی حکومت نے خلائی شعبے میں نئے اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کے لیے IN-SPACe جیسا ادارہ قائم کیا، جس سے پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت ممکن ہوئی۔ اسی کے ساتھ گگن یان مشن، بھارت کا پہلا انسانی خلائی مشن، تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

شبھانشو شکلا نے کہا کہ بھارت کے خواب بہت بڑے ہیں، جن میں گگن یان مشن، بھارتیہ انترکش اسٹیشن (Bharat Space Station) اور چاند پر اترنے جیسے مقاصد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا:

رپورٹ میں بتایا گیا کہ IT، بزنس ڈیولپمنٹ اور آپریشنز وہ اہم شعبے ہیں جو نئی بھرتیوں میں سبقت لے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آجرین نے چند مشکلات کی نشاندہی بھی کی ہے، جو روزگار میں توسیع کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں:

اتراکھنڈ کا "کنگ روٹ" سیب اپنی کرسپ ساخت، بھرپور ذائقہ اور قدرتی مٹھاس کے لیے جانا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ سیب منفرد خصوصیات کے حامل ہیں، لیکن کسانوں کو عالمی مارکیٹ تک رسائی میں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے،

ریزرو بینک کے گورنر سنجے ملہوترا نے مانیٹری پالیسی جائزہ میٹنگ کے بعد بتایا کہ بھارت کے موجودہ زرمبادلہ ذخائر اتنے ہیں کہ وہ ملک کی 11 ماہ کی درآمدات پوری کر سکتے ہیں۔