Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی اور تقریباً 50 سال میں 15 مرتبہ پارٹی صدر منتخب ہوئے، لیکن ان میں سے ایک بھی خاتون نہیں تھی۔ ان کے مطابق کئی مرد لیڈروں کو بار بار موقع دیا گیا، مگر خواتین کو قیادت میں جگہ نہیں ملی

اسمرتی ایرانی  نے الزام لگایا کہ کانگریس کی حکومتوں کے دور میں دہائیوں تک خواتین بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں، جب کہ بی جے پی حکومت میں خواتین کے لیے فلاحی اقدامات اور “جینڈر بجٹ فریم ورک” جیسے اقدامات شروع کیے گئے۔

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت نہ کرنا اپوزیشن کی بڑی سیاسی غلطی ہے اور یہ رویہ خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے سیاسی نتائج اپوزیشن کو بھگتنے پڑیں گے۔

۔فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہز آبنائے ہُرم کو فوری، غیر مشروط اور مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے اور بین الاقوامی بحری قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر آئندہ ہفتے لندن میں مزید اجلاس ہوگا۔

کرن رجیجو نے کہا کہ اگر ملک کے موجودہ حالات کی بات کریں تو حکومت کے مطابق بائیں بازو کی شدت پسندی تقریباً ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ شمال مشرقی علاقوں میں بھی، منی پور کو چھوڑ کر بیشتر علاقوں میں امن بحال کیا گیا ہے،

بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، لیکن حکومت مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور بل مسترد ہو گیا۔

پرینکاگاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین ریزرویشن ملک کی خواتین کا حق ہے اور ایک دن یہ ضرور حقیقت بنے گا۔انہوں نے کہا کہ 2011 کی مردم شماری اور اس پر مبنی حد بندی سے جوڑ کر نریندر مودی کی خواتین کے مسیحا بننے کی کوشش آج ناکام ہو گئی۔

امت شاہ نے کہا کہ اس وقت لوک سبھا میں 543 ارکان ہیں، لیکن کئی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد میں بہت بڑا فرق ہے۔ کہیں 60 ہزار ووٹر ہیں تو کہیں 49 لاکھ تک ووٹر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد والے حلقوں میں رکن پارلیمنٹ کے لیے تمام ووٹروں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن بظاہر بل کی حمایت کی بات کر رہی ہے، لیکن "اگر مگر" اور "لیکن" جیسے الفاظ کے ذریعے دراصل اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف عمل درآمد کا نہیں بلکہ پورے بل کا مسئلہ ہے۔

اس منصوبے پر آئندہ 10 سے 15 برسوں میں تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ گزشتہ سال ادانی گروپ، جو دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ پر بھی کام کر رہا ہے، موٹی لال نگر منصوبے کے لیے کامیاب بولی دہندہ بنا تھا۔ذرائع کے مطابق اس علاقے میں فی مربع فٹ قیمت تقریباً 30 ہزار روپے ہے