Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


اپنے پیغام میں نریندر مودی  نے لکھا، “پانی ہمیں زندگی دیتا ہے اور ہمارے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ عالمی یومِ آب کے موقع پر آئیں ہم ہر بوند کو بچانے اور اس کا ذمہ داری سے استعمال کرنے کے عزم کو مضبوط کریں۔

جنوبی اسرائیل کے اس صحرائی شہر پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایرانی سرکاری میڈیا نے چند گھنٹے قبل ہی Natanz Nuclear Facility پر امریکی-اسرائیلی کارروائی کی خبر دی تھی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یورپ، کوریا، جاپان اور چین کو اس کی ضرورت ہے، اس لیے انہیں اس معاملے میں آگے آنا ہوگا۔

دہلی اور ہریانہ کے لوگوں کے لیے آج کی صبح حیران کن رہی۔ دہلی میں درجہ حرارت کم ہو کر 13 ڈگری تک پہنچ گیا اور گہری دھند چھائی رہی۔ فرید آباد اور گروگرام میں بھی لوگ دوبارہ جیکٹ اور کمبل استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے

حکومت کا ماننا ہے کہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی تقاضوں کے پیش نظر ایک مشترکہ قانون وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اس بل کے ذریعے نہ صرف انتظامی ہم آہنگی پیدا کی جائے گی بلکہ فورسز کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

خلیج میں غیر مسلح تجارتی جہازوں، تیل و گیس تنصیبات اور دیگر شہری ڈھانچے پر ایران کے حالیہ حملے قابلِ مذمت ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کرنے کی کوششوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

امت شاہ  نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ نوروز صرف ایک تہوار نہیں بلکہ نئی شروعات، امید اور تجدید کا استعارہ ہے، جو بھارت کی مشترکہ ثقافتی وراثت کا اہم حصہ ہے۔ امیت شاہ کے مطابق ایسے تہوار نہ صرف مختلف برادریوں کو قریب لاتے ہیں،

سونو بھائی کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اس اسکیم کا فائدہ نہ ملتا تو پکا گھر بنانا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم غریبوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں اور اس کے لیے انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ 

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی امریکی قیادت نے خوش فہمی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس وقت کے امریکی جنرل ولیم ویسٹمورلینڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ فتح قریب ہے، لیکن 1968 میں ہونے والے “ٹیٹ حملے” نے ان دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا۔

ماہرین موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کے سسٹم (ویسٹرن ڈسٹربنس) کے فعال ہونے کے باعث بادلوں کی موجودگی برقرار ہے، جس سے نہ صرف درجہ حرارت میں کمی آئی ہے ،بلکہ ہوا بھی صاف ہوئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند دنوں تک یہی خوشگوار موسم برقرار رہے گا،