الیکشن کمیشن نے سدارامیا کی قیادت والی کرناٹک حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پیر (27 نومبر) کو یہ نوٹس تلنگانہ میں سرکاری اشتہارات دے کر ماڈل ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر جاری کیا ہے۔انتخابی پینل نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور تلنگانہ کی حکمران بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) نے کہا تھا کہ کرناٹک حکومت نے کئی اخبارات کے حیدرآباد ایڈیشن میں اشتہارات شائع کیے ہیں۔
‘اس کے لیے کوئی منظوری نہیں دی گئی’
ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق، الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس نے اپنے ریکارڈ کی جانچ کی اور پتہ چلا کہ نہ تو کانگریس کو ایسی منظوری دی گئی تھی اور نہ ہی کرناٹک حکومت کی طرف سے ایسی کوئی درخواست فیصلے کے لیے زیر التوا تھی۔
‘کمیشن کی ہدایات کی خلاف ورزی’
الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ “حکومت کرناٹک نے انتخابی ریاست تلنگانہ میں گردش کرنے والے اخبارات میں فلاحی اسکیموں اور حکومت کی کامیابیوں پر مشتمل اشتہارات دیے ہیں، جو کمیشن کی ہدایات کی سراسر خلاف ورزی ہے۔”
الیکشن کمیشن نے جواب طلب کر لیا۔
الیکشن کمیشن نے کرناٹک حکومت سے 28 نومبر تک اس معاملے میں وضاحت دینے کو کہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سدارامیا حکومت کو بھی تلنگانہ میں اس طرح کے اشتہارات کی اشاعت کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت دی ہے۔
محکمہ تعلقات عامہ کے انچارج سیکرٹری کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟
اس کے علاوہ کمیشن نے ریاستی حکومت سے یہ وضاحت کرنے کو بھی کہا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر محکمہ اطلاعات اور تعلقات عامہ کے انچارج سکریٹری کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
