ملک میں منصفانہ انتخابات اور شفاف ووٹر لسٹ کو یقینی بنانے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے یہ اہم موقف اختیار کیا ہے۔ اتر پردیش میں خصوصی مختصر نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام حذف کرانے کے لیے جمع کیے گئے فارم 7 میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات کا عدالت نے سخت نوٹس لیا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے الیکشن کمیشن کو تمام شکایات کی تفصیلی جانچ، فوری کارروائی اور اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اتر پردیش میں ایک مخصوص طبقے کے نام حذف کرانے کا الزام
سماعت کے دوران عرضی گزار اور بارہ بنکی کے رکن پارلیمنٹ تنوج پونیا کی جانب سے پیش وکلا نے عدالت کو بتایا کہ اتر پردیش کے ایک ہی اسمبلی حلقے میں ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرانے کے مقصد سے تقریباً 32 ہزار فرضی فارم 7 جمع کرائے گئے تھے۔ ان میں سے بعض فارم پر بوتھ لیول افسر (بی ایل او) کے فرضی دستخط بھی پائے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل ڈی ایس نائیڈو نے بھی عدالت کے سامنے تسلیم کیا کہ بڑی تعداد میں فارم 7 جمع کرائے جانے سے متعلق شکایات سامنے آئی ہیں۔ عدالت نے عرضی گزاروں کو ہدایت دی کہ وہ تمام ایسی بے ضابطگیوں کی فہرست تیار کرکے الیکشن کمیشن کے حوالے کریں جن کا ابھی تک ازالہ نہیں ہوا ہے۔
کیرالہ ایس آئی آر کی مدت بڑھانے کی درخواست مسترد
دوسری جانب، کیرالہ میں ایس آئی آر کی جانچ کے لیے مقررہ مدت بڑھانے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے راحت دینے سے انکار کردیا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ جن شہریوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے یا اس میں ترمیم سے متعلق معاملات زیر التوا ہیں، وہ اپنی شکایات الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔
کیرالہ حکومت نے مقامی بلدیاتی انتخابات اور عملے کی شدید کمی کا حوالہ دیتے ہوئے ایس آئی آر کا عمل ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ ریاستی حکومت کا کہنا تھا کہ مقامی انتخابات کے لیے تقریباً 1.76 لاکھ ملازمین اور 68 ہزار سکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے۔ ایسے میں محدود عملے کے ساتھ ایس آئی آر کا عمل مکمل کرنا انتظامی طور پر انتہائی مشکل ہے۔فی الحال سپریم کورٹ نے ان شکایات کا ازالہ الیکشن کمیشن کی سطح پر ہی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کی ان ہدایات کا کتنا پاس و لحاظ رکھتا ہے اور کس طرح سے کاٹے گئے ناموں کو دوبارہ جوڑا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



