Bharat Express DD Free Dish

Priti Adani Calls For Skilled Talent: بھارت کے سیمی کنڈکٹر مشن کو مضبوط بنانے کے لیے ہنرمند افرادی قوت ضروری: پریتی اڈانی

اڈانی یونیورسٹی کی صدر نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک بڑھانے پر زور دیا، کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی صلاحیتوں کو فروغ دینا بھی ضروری ہے

اڈانی یونیورسٹی کی صدر ڈاکٹر پریتی اڈانی نے بھارت کے سیمی کنڈکٹر نظام کو مضبوط بنانے کے لیے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے جدید مینوفیکچرنگ سہولیات کے ساتھ تربیت یافتہ اور ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا بھی ضروری ہے۔ وہ اڈانی یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ’ہارڈویئر، اختراع، پروسیسنگ اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز کانکلیو (چپس) 2026‘ سے خطاب کر رہی تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے تعلیم، تحقیق اور صنعت کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ پریتی اڈانی نے کہا، ’’ہماری تکنیکی ترقی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ ہماری مشینیں کتنی ذہین ہو جاتی ہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ ہم بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے انسانی ذہانت کو کتنی دانش مندی سے فروغ دیتے اور استعمال کرتے ہیں۔‘‘

سیمی کنڈکٹر شعبے کے ماہرین کی شرکت

کانکلیو میں کوالکوم، این ایکس پی سیمی کنڈکٹرز، مائکرون ٹیکنالوجی، سنوپسس، سیریل امارچند منگل داس اور انفینین ٹیکنالوجیز کے ماہرین نے کلیدی خطابات کیے۔ اس دوران وائرلیس ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، میموری اور ڈیٹا اسٹوریج، بجلی کے نظام اور قانونی خدمات سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کانکلیو میں تین پینل مباحثے بھی منعقد ہوئے، جن میں سیمی کنڈکٹر شعبے کی اہم ترجیحات پر غور کیا گیا۔ ’بھارت میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کا مستقبل‘ کے موضوع پر ہونے والے مباحثے میں ملک کی اندرونِ ملک ڈیزائن کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر گفتگو کی گئی۔ مباحثوں میں بھارت میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے امکانات، اس شعبے میں ابھرنے والی ملازمتوں اور مستقبل میں درکار مہارتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

صنعت کی ضروریات کے مطابق تعلیم اور تحقیق

اڈانی یونیورسٹی نے آئی آئی ٹی منڈی، وی ایل ایس آئی سوسائٹی آف انڈیا اور سیریل امارچند منگل داس کے اشتراک سے چپس 2026 کا انعقاد کیا۔ اس میں گجرات اسٹیٹ الیکٹرانکس مشن، سیمی کنڈکٹر کمپنیوں اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ تحقیق اور تکنیکی تعلیم کو صنعت کی ضروریات کے مطابق کس طرح بنایا جائے، تاکہ طلبہ کو روزگار کے لیے مطلوبہ مہارتیں حاصل ہو سکیں اور کمپنیوں کو تربیت یافتہ ماہرین دستیاب ہوں۔

ڈھولیرا اور سانند میں منصوبوں سے گجرات کو تقویت

بھارت کا سیمی کنڈکٹر مشن چِپ ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور پیکیجنگ سمیت مختلف شعبوں پر مشتمل ہے۔ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن نے اس شعبے کی ترقی کو رفتار دی ہے، جبکہ ڈھولیرا اور سانند میں جاری منصوبوں سے سیمی کنڈکٹر صنعت میں گجرات کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث جدید چِپس، ڈیٹا سینٹرز اور قابلِ اعتماد بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں ہنرمند افراد کی تیاری اور تکنیکی تعلیم کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا اہم سمجھا جا رہا ہے۔

احمد آباد میں سیمی کنڈکٹر تعلیم کو فروغ دینے کا منصوبہ

اڈانی یونیورسٹی احمد آباد میں اپنے مجوزہ کثیر شعبہ جاتی عالمی کیمپس کے ذریعے سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں مہارت کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یونیورسٹی کے منصوبے میں انجینئروں کے لیے خصوصی کورسز، پیشہ ور افراد کے لیے اعلیٰ سطح کی تربیت اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے کے پروگرام شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد تحقیق کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا اور بھارت میں سیمی کنڈکٹر شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read