Bharat Express DD Free Dish

UP MLC Election: یوپی ایم ایل سی انتخابات میں سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ،14 لاکھ سے زیادہ ووٹر کریں گے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ

ان انتخابات کے ووٹوں کی گنتی 27 اکتوبر کو کی جائے گی۔ اسی دن یہ واضح ہوگا کہ قانون ساز کونسل کی ان 11 نشستوں پر کس جماعت کو کامیابی حاصل ہوتی ہے اور اقتدار کے اس سیاسی سیمی فائنل میں کون اپنی برتری ثابت کرتا ہے۔

نئی دہلی :اتر پردیش کی سیاست میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی 11 نشستوں پر ہونے والے انتخابات نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ بظاہر یہ مقابلہ 5 گریجویٹ اور 6 اساتذہ کی نشستوں تک محدود ہے، لیکن سیاسی حلقوں میں اسے اقتدار کا سیمی فائنل قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے لے کر سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو تک نے اس انتخاب میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ریاست کے 75 میں سے 72 اضلاع میں آج صبح 8 بجے سے ووٹنگ شروع ہو چکی ہے، جو شام 4 بجے تک جاری رہے گی۔ اس انتخاب میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اہم اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

کئی لیڈروں کی ساکھ داؤ پر

اس انتخاب میں بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان مقابلے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے دونوں جماعتوں نے درجنوں وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور 100 سے زیادہ ارکان اسمبلی کو انتخابی مہم میں سرگرم کیا ہے۔مقابلے کی شدت کے درمیان سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے انتظامی افسران کو کھلے عام خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’’جیل جانے کی تیاری‘‘ پختہ رکھیں۔ انتخابی کمیشن کی سخت نگرانی اور سیاسی جماعتوں کی بھرپور انتخابی مہم نے اس مقابلے کو معمول کے انتخابات سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔

14 لاکھ سے زیادہ ووٹر کریں گے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ

قانون ساز کونسل کی ان 11 نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 14.18 لاکھ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے ووٹوں سے 152 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ووٹنگ کو غیر جانب دار اور پُرامن بنانے کے لیے انتخابی کمیشن نے وسیع انتظامات کیے ہیں۔ ووٹنگ والے تمام 72 اضلاع میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ 11 مبصرین تعینات کیے گئے ہیں۔ ہر پولنگ بوتھ پر مائیکرو آبزرور کی موجودگی کے ساتھ ویڈیو گرافی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ چیف الیکٹورل آفیسر نویدیپ رنوا نے ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی ووٹر کو شناختی کارڈ یا معمولی دفتری غلطیوں کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے سے نہ روکا جائے۔

کن نشستوں پر ہو رہی ہے ووٹنگ؟

جن 5 گریجویٹ حلقوں میں ووٹنگ ہو رہی ہے، ان میں لکھنؤ، آگرہ، میرٹھ، وارانسی اور الہ آباد-جھانسی شامل ہیں۔اساتذہ کے 6 حلقوں میں لکھنؤ، آگرہ، میرٹھ، وارانسی، بریلی-مرادآباد اور گورکھپور-فیض آباد شامل ہیں۔امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ووٹنگ والے تمام 72 اضلاع میں بارہویں جماعت تک کے اسکول اور شراب کی دکانیں بند رکھی گئی ہیں۔

27 اکتوبر کو ہوگا امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ

ان انتخابات کے ووٹوں کی گنتی 27 اکتوبر کو کی جائے گی۔ اسی دن یہ واضح ہوگا کہ قانون ساز کونسل کی ان 11 نشستوں پر کس جماعت کو کامیابی حاصل ہوتی ہے اور اقتدار کے اس سیاسی سیمی فائنل میں کون اپنی برتری ثابت کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read