Bharat Express DD Free Dish

PM Narendra Modi: ’دنیا تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، اقوام متحدہ جیسے ادارے ناکام‘، پی ایم مودی نے بتایا نئے عالمی نظام میں بھارت کا کیا ہوگا کردار

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام آج کے چیلنجز کا حل پیش کرنے میں ناکام ہو رہا ہے اور دنیا ایک نئے عالمی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ کی شمولیت، کثیر فریقی اداروں میں اصلاحات اور بحران کے وقت مضبوط بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کانگریس پر بھی سخت تنقید کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے اور ایک نیا عالمی نظام تشکیل پا رہا ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ عالمی نظام آج کے پیچیدہ چیلنجز سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے قابل نظر نہیں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ’نئے عالمی نظام‘ پر بحث اس لیے ہو رہی ہے، کیونکہ اس کے اثرات لوگوں کی روزمرہ زندگی تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے دو سوالات پر توجہ دینا ضروری ہے۔ پہلا یہ کہ عالمی نظام میں تبدیلی کیوں آ رہی ہے، اور دوسرا یہ کہ اس بدلتے دور میں بھارت کا کیا کردار ہوگا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہوا تھا پرانا نظام

پی ایم مودی نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کو احساس ہوا تھا کہ بین الاقوامی نظام صرف طاقت اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر نہیں چل سکتا۔ بات چیت، تعاون اور تنازعات کا پُرامن حل بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اسی سوچ کے تحت اقوام متحدہ (UN) جیسے اداروں کی بنیاد رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک اقوام متحدہ نے عالمی امن اور تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ دنیا بدل گئی، نئی اقتصادی طاقتیں ابھریں، نئے عزائم سامنے آئے اور چیلنجز پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گئے۔

نئے عالمی نظام میں گلوبل ساؤتھ کی آواز ضروری

وزیر اعظم کا خیال ہے کہ مستقبل کا عالمی نظام زیادہ جامع ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کثیر فریقی اداروں میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں اور گلوبل ساؤتھ کو مناسب نمائندگی دینا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی تعاون صرف اچھے وقت تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ بحران کے وقت بھی ممالک کے درمیان تعاون اتنا ہی مضبوط اور مؤثر رہنا چاہیے۔

بھارت کے کردار پر بھی اپنا موقف پیش کیا

پی ایم مودی نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے دوران دنیا نے بھارت کے کردار کو قریب سے دیکھا۔ مشکل حالات میں بھارت نے کئی ممالک کی مدد کی اور عالمی تعاون کی مثال پیش کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ عالمی چیلنجز اور غیر یقینی صورت حال کے درمیان بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

اپوزیشن پر بھی تنقید کی

اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے اپوزیشن، خاص طور پر کانگریس پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب دنیا نئے نظام کی تلاش میں مصروف ہے، تب کچھ لوگ بھارت میں بدانتظامی پھیلانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ کانگریس کا نام لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں یہ پارٹی اپنے ’ناکام پروڈکٹ‘ کو لانچ کرنے کی کوشش میں کب تک ملک کو داؤ پر لگائے رکھے گی۔

کانگریس کی قیادت پر طنز

پی ایم مودی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک سال میں سری ہری کوٹا سے جتنے راکٹ لانچ نہیں ہوتے، اس سے زیادہ بار کانگریس اپنے لیڈر کو لانچ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کا یہ خاندان اب اپنی ہی پارٹی پر بوجھ بن چکا ہے۔ وزیر اعظم کے اس بیان کو اپوزیشن پر براہ راست سیاسی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

نئے عالمی نظام کے حوالے سے بھارت کا پیغام

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ دنیا ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی اداروں میں اصلاحات، گلوبل ساؤتھ کی شمولیت اور بحران کے وقت مضبوط بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق، بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں بھارت اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور نئے عالمی نظام کی تشکیل میں فعال طور پر اپنا حصہ ڈالے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read