فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک میں پرتشدد مظاہروں کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فرانس میں ہونے والے فسادات کا کسی مخصوص مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ حال ہی میں بڑھتی مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج نے پرتشدد شکل اختیار کر لی تھی۔ خلیجی ممالک کے دورے کے بعد دوحہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے میکرون نے یہ باتیں کہیں۔ ایلیزی پیلس، جو فرانس کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور مرکزی دفتر ہے، نے پریس کانفرنس کی براہ راست نشر کیں۔ انہوں نے کہا، ”معلومات میں بیرونی سطح پر چھیڑ چھاڑ کی گئی، جس کی وجہ سے کئی لوگوں، جن میں غیر ملکی لیڈر بھی شامل ہیں، نے غیر ذمہ دارانہ تبصرے کیے۔ ان لیڈروں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ فسادات کی جعلی ویڈیوز دیکھ کر بیانات دیے۔“
فرانس میں پیش آنے والے واقعات کی جعلی تصاویر دکھائی گئیں: میکرون
میکرون نے واضح کیا، ”ہفتے کے آخر میں فرانس میں جو کچھ ہوا، اس میں ہمیں کسی غیر ملکی مداخلت کا سراغ نہیں ملا۔ لیکن ہم نے اے آئی سے تیار کردہ ایسی تصاویر دیکھیں، جن میں ایسے مناظر دکھائے گئے جو فرانس میں کبھی پیش ہی نہیں آئے تھے۔ کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ فرانس پر تارکین وطن اور اسلام پسندوں کے ہجوم نے حملہ کر دیا ہے، جو سراسر جھوٹ ہے۔“ انہوں نے مزید کہا، ”ایسے مواقع پر پتا چل جاتا ہے کہ کون فرانس کو پسند کرتا ہے اور کون نہیں۔ جو لوگ اس وقت ہمارے بارے میں برا بول رہے ہیں، وہ ہمارے ملک کو پسند نہیں کرتے۔“ واضح رہے کہ ٹرمپ نے فرانس میں اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کے دھڑے کی اہم امیدوار میرین لی پین کو ایک ”قدامت پسند“ لیڈر قرار دیا۔
مشرق وسطیٰ کے دورے پر بھی میکرون کو تنقید کا سامنا
فرانس کے بعض حلقوں میں میکرون کے مشرق وسطیٰ کے دورے پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اتوار کو قوم سے ان کے خطاب کی بھی مذمت کی گئی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس خطاب میں آگے کے لیے کوئی واضح سمت نہیں بتائی گئی۔ دوسری جانب دوحہ میں وطن واپسی سے پہلے میکرون نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا کہ صورت حال ان کے قابو میں ہے۔ انہوں نے کہا، ”گھبراہٹ یا بے چینی کی کوئی علامت نہیں ہے۔ میں عہدے پر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہوں۔“
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



