نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نےمطالبہ کیا ہے کہ نئی دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، بنیادی سہولیات کو بحال کیا جائے اور مسجد کو نمازیوں کے لیے بلا روک ٹوک کھلا رکھا جائے۔ انہوں نے مسجد کو خالی کرنے کے نوٹس اور اسے منہدم کئے جانے کے خطرے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تاریخی مسجد اور قبرستان کے تحفظ کا مطالبہ
میڈیا کے لیے جاری اپنے ایک بیان میں ملک معتصم خان نے کہا کہ یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کے نوٹس اور انہدام کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریس کورس مسجد میں برسوں سے لوگ عبادت کرتے آئے ہیں جو کہ 1977 سے سرکاری گزٹ میں اوقاف کی جائداد کے طور پر درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسجد کی دستاویزی حیثیت اور متعلقہ ریکارڈ کو لازمی طور پرپیش نظر رکھا جائے اور اس تاریخی مسجد اور اس سے متصل قبرستان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
بجلی اور پانی کی سہولیات بحال کرنے کا مطالبہ
ملک معتصم خان نے کہا کہ ہم مسجد کی بجلی منقطع کئے جانے اور جگہ خالی کرنے کے لیے مسجد کے امام پر غیر قانونی دباؤ ڈالے جانے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بجلی اور پانی کی سہولیات کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور نمازیوں کے لیے مسجد میں آنے جانے کا راستہ روک ٹوک کے بغیر کھلا رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات انتہائی نامناسب اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں۔ انتظامیہ کو اپنے اقدامات قانونی بنیاد پر ثابت کرنے چاہئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ عبادتگاہوں اور نمازیوں کا احترام ہر حال میں بر قرار رہے۔
وقف بورڈ سے مؤثر قانونی چارہ جوئی کی اپیل
ملک معتصم خان نے وقف بورڈ کی جانب سے بے دخلی کے خلاف مؤثر قانونی چارہ جوئی نہ کئے جانے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوقاف کی جائیدادوں کے تحفظ کی ذمہ داری جن اداروں کو سونپی گئی ہے، انہیں اپنی ذمہ داریاں پوری مستعدی سے نبھانی چاہئےاور ایسی جائیدادوں کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں بروقت قانونی اقدامات کرنا چاہئے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ قانون کی بالادستی برقرار رکھیں اور تاریخی اہمیت کی حامل عبادت گاہوں کا تحفظ کریں۔
انہدام کے خطرے اور اقلیتوں کے خلاف نفرت پر تشویش
ملک معتصم خان نے زور دے کر کہا کہ ریس کورس مسجد ان مساجد میں شامل ہے جنہیں انہدام کے خطرات کا سامنا ہے۔ اس سے مسلم برادری میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور ایسے اقدامات کے پس پردہ مقاصد کے بارے میں سنگین سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ ہم حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ غیر منصفانہ فیصلوں سے گریز کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ انتظامی اختیارات کا غلط استعمال فرقہ وارانہ سیاست اوراقلیتوں کے خلاف نفرت کو فروغ دینے کے لیے نہ ہو۔ جماعت اسلامی ہند انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ مسجد اور اس سے متصل قبرستان کا تحفظ کیا جائے، اس کی بنیادی سہولیات بحال کی جائیں، نمازیوں کے لیے آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے اور انہدام سے متعلق تمام کارروائیوں کو مکمل طور پر روک دیا جائے۔ مرکزی اور دہلی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ مسجد کی دستاویزی حیثیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس معاملے کو قانونی تقاضوں کے مطابق اور شفاف طریقے سے نمٹایا جائے۔ ملک میں مساوات، عوامی اعتماد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ تمام عبادتگاہوں کو یکساں تحفظ فراہم کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





