نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت سنگھ کے صد سالہ سال کے موقع پر منعقد ہونے والے شری وجے دشمی اتسو میں شرکت کے لیے ناگپور پہنچے۔ ناگپور میں شری وجے دشمی اتسو کا آغاز سویم سیوکوں کے پتھ سنچالن (مارچ پاسٹ)سے ہوا۔ اس تقریب میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت بھی موجود رہے اور انہوں نے خطاب کیا۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر موہن بھاگوت نے کئی اہم امور پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ خود شناسی کے جذبے کو سماج میں دیسی میلوں کے ذریعے بیدار کرنے کی کوشش کرنے والے ’ہندو میلہ‘ کے محرک اور بانی، بنگال کے آنجہانی راج نارائن باسو کی پیدائش کا یہ 200واں سال ہے۔سنگھ کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں اپنی بھولی ہوئی شناخت کو دوبارہ یاد کرنا ہوگا اور اس بنیادی حقیقت کو واضح طور پر سمجھنے کے ساتھ اسے قبول بھی کرنا ہوگا۔ اس کے مطابق زندگی کے تمام شعبوں میں معیاری طرزِ زندگی تشکیل دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے لیے جس قدر قربانیاں اور جدوجہد کی گئی تھی، موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اب اس سے بھی زیادہ محنت اور لگن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
پنچ پریورتن کے پانچ نکات کو زندگی کا حصہ بنانے پر زور
ڈاکٹر موہن بھاگوت نے پنچ پریورتن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پانچوں نکات، یعنی سماجی ہم آہنگی، خاندانی اقدار کی بیداری، ماحولیات کا تحفظ، خود شناسی اور سودیشی، نیز شہری نظم و ضبط کو سماج کے تمام طبقات اور سطحوں پر پذیرائی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ان اقدامات کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پنچ پریورتن محض ایک سال تک چلنے والا پروگرام نہیں ہے، بلکہ یہ طرزِ زندگی اور روزمرہ کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کا ایک طریقہ ہے۔ ان کے مطابق، ان اصولوں کو عملی زندگی میں اپنانا ضروری ہے تاکہ سماج میں دیرپا تبدیلی لائی جاسکے۔
صحیح اور غلط کی تمیز نہ ہونے سے نشے کی لت کا شکار ہو رہی نئی نسل
آر ایس ایس کے سربراہ نے نئی نسل کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو صحیح اور غلط میں فرق کیے بغیر قبول کرلیتے ہیں۔ اس کے منفی نتائج سامنے آنے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک نے کچھ ضابطے اور پابندیاں نافذ کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بھی، خاص طور پر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے حوالے سے، سماج کے اندر اس طرح کے ضابطوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کو اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔موہن بھاگوت نے کہا کہ صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت کی کمی کے باعث دنیا بھر میں نئی نسل منشیات کی عادی ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے نشے کو ایک سنگین قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے حکومت، انتظامیہ اور سماج کو بروقت کوششیں شروع کرنی چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ نسل کے سرپرستوں اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کو صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت دیں، تاکہ نوجوان منشیات اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کا ذریعہ، لیکن متوازن نقطۂ نظر ضروری
ڈاکٹر موہن بھاگوت نے متوازن اور ہمہ جہت ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی انسانوں کو مادی اعتبار سے بہتر زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے ذریعے علم اور منطق کی بنیاد پر اپنے طرزِ عمل کو بہتر اور درست بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی محض ایک ذریعہ ہے۔ اگر ترقی کو صرف صارفیت یا مادہ پرستی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سہولتوں اور آسائشوں کے ساتھ بڑے نقصانات بھی اٹھانے پڑسکتے ہیں۔
نیپال کی تباہی کا ذکر، ہمالیائی خطے میں متوازن ترقی کی ضرورت
اپنی بات کی وضاحت کے لیے موہن بھاگوت نے نیپال کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ نیپال کو جس بھیانک تباہی کا سامنا کرنا پڑا اور جس میں ہزاروں افراد کی جانیں گئیں، اس کے پس منظر میں ہمالیائی خطے میں ہونے والی یک طرفہ ترقی کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمالیہ کا وسیع خطہ ہندوستان، تبت، بھوٹان اور چین سمیت کئی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ایسے میں ترقی کے لیے ایک جامع اور متوازن نقطۂ نظر اپنانا ضروری ہے، تاکہ ترقی کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ماحولیات اور انسانی زندگی کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات سے بھی بچا جاسکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

