نئی دہلی : دہلی میں حال ہی میں ہوئے ایک احتجاج کے دوران نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کی قومی سکریٹری ریتو برالا پر مبینہ حملے کے معاملے میں کانگریس پارٹی ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں راجستھان کانگریس کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا کی قیادت میں کانگریس کا ایک وفد جے پور پولیس کمشنریٹ پہنچا اور رات بھر وہاں بیٹھا رہا۔کانگریس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب تک ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی، وہ وہاں سے نہیں اٹھیں گے۔ شام ہوتے ہوتے راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس لیڈر اشوک گہلوت بھی اس وفد میں شامل ہوگئے۔ تاہم، ڈوٹاسرا اور دیگر پارٹی لیڈروں کے گھر جاکر آرام کرنے کی درخواست پر وہ اپنی رہائش گاہ واپس لوٹ گئے۔ دوسرے لیڈروں کے رات بھر وہاں نہ رکنے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔
Jaipur, Rajasthan: Congress State President Govind Singh Dotasra and other party leaders remain inside the Jaipur Police Commissionerate, demanding the registration of an FIR in connection with the alleged assault on NSUI National Secretary Ritu Barala by a Delhi Police constable in Delhi.
Former CM Ashok Gehlot says, “…Especially for women, a Zero FIR can be registered for any case. There is a special provision made for women that if any such incident happens to them, you can have it registered in any corner of Hindustan. You don’t have to do anything, just forward it. If the government has to forward it, they don’t even have to investigate it. Now what can we say? Should we condemn them or what should we call them? The police commissioner is untraceable. The DGP is working under pressure…”
(19.10)
— IANS (@ians_india) October 19, 2026
اشوک گہلوت نے کہا، دباؤ میں کام کر رہی ہے پولیس
راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ جے پور پولیس حکومت کے دباؤ میں کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، پولیس پر کتنا دباؤ ہے، اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔گہلوت نے کہا، ’’خاص طور پر خواتین سے متعلق معاملات میں کسی بھی واقعے کے سلسلے میں زیرو ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے۔ خواتین کے لیے خصوصی انتظام ہے کہ اگر ان کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو وہ ملک کے کسی بھی حصے میں ایف آئی آر درج کرا سکتی ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’آپ کو کچھ نہیں کرنا ہے، بس اسے متعلقہ تھانے کو بھیج دینا ہے۔ اگر حکومت یہ بھی نہیں کرسکتی تو پھر اسے اس معاملے کی جانچ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اب ہم کیا کہیں؟ اس کی مذمت کریں یا انہیں کیا کہیں؟ پولیس کمشنر ملاقات کے لیے دستیاب نہیں ہیں اور ڈی جی پی دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔‘‘گہلوت نے دعویٰ کیا کہ راجستھان میں پولیس کی صورت حال خراب ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق، حالیہ بلدیاتی انتخابات کے دوران بھی یہ صورت حال واضح طور پر دیکھنے کو ملی۔
VIDEO | Rajasthan: Congress leaders including party’s state president Govind Singh Dotasra spend night at Jaipur Police Commissionerate demanding FIR in Ritu Barala assault case.
(Full video available on PTI Videos – https://t.co/d8jp61yd2p) https://t.co/sZc5TEMLx5
— Press Trust of India (@PTI_News) October 20, 2026
کیا ہے ریتو برالا کا معاملہ؟
#WATCH | Jaipur, Rajasthan: NSUI National Secretary Ritu Barala says, “Our primary demand is that an FIR be registered in a lawful manner regarding the incident that took place in Delhi. We had previously staged a sit-in protest that lasted through the night at the Parliament Street Police Station in Delhi. Today, we are demanding—from both the national and state police administrations—that an FIR be registered. As long as an FIR is not filed, we consider it a repeated act of injustice against us… This incident occurred on October 13th while we were protesting at Connaught Place in Delhi, demanding the resignation of Gyanesh Kumar. In my entire political career and experience, I have never encountered such a horrific incident. The behavior of the female police personnel involved was utterly unacceptable and indecent. After detaining us, they engaged in physical assault… Following our detention, we were taken to the Connaught Place police station, where we were specifically targeted; we were locked in a room and beaten… We demand that the government dismiss the police personnel involved, as well as the SHO, and register an FIR. We seek justice… The absence of nameplates is unacceptable behavior on the part of these officers. Protests are a regular occurrence in our country’s democracy, yet these officers have effectively acted to suppress the voices of those protesting.”
— ANI (@ANI) October 19, 2026
دراصل، 13 اکتوبر کو دہلی کے راجیو چوک میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 7 کے قریب احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے این ایس یو آئی کے کارکنوں کو حراست میں لیا تھا۔ ریتو برالا کا الزام ہے کہ اس دوران خاتون پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی اور تھانے میں بھی انہیں لاٹھی سے پیٹا۔ریتو برالا راجستھان کے جھنجھنو ضلع کی رہنے والی ہیں اور گزشتہ کچھ دنوں سے جے پور میں مقیم ہیں۔ پیر کے روز انہوں نے جے پور کے موتی ڈونگری پولیس اسٹیشن میں درخواست دے کر اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں زیرو ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا۔
راہل گاندھی کی ہدایت کے بعد سرگرم ہوئی کانگریس
اس معاملے کے بعد کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے راجستھان کانگریس کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا کو فون کرکے اس معاملے میں احتجاج کرنے کے لیے کہا۔ اس کے بعد کانگریس لیڈر سرگرم ہوگئے اور انہوں نے پہلے پولیس کمشنر سے ملاقات کی۔دہلی پولیس کے خلاف شکایت پر ایف آئی آر درج نہ ہونے کے خلاف کانگریس لیڈروں نے احتجاج کیا۔ بعد ازاں، انہوں نے جے پور پولیس کمشنریٹ کے باہر دھرنا شروع کردیا۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ ریتو برالا کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی جائے اور معاملے میں کارروائی کی جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



