دنیا کے مختلف حصوں میں ان دنوں عوامی غصہ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ ہندوستان ہو یا یورپ اور امریکہ، کئی ممالک میں لوگ حکومتوں کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، پنشن اور رہائش جیسے مسائل نے عام لوگوں کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
یورپ سے لاطینی امریکہ تک بڑھتی بے چینی
فرانس، اٹلی، بیلجیم، پرتگال، البانیہ اور ترکی جیسے ممالک میں لوگ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ وہیں لاطینی امریکی ملک ارجنٹینا اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ میں بھی حکومتی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ تقریباً ہر جگہ عوام کی شکایات کی بنیادی وجہ مہنگائی، روزگار کی کمی اور زندگی گزارنے کی بڑھتی لاگت ہے۔
فرانس میں انتخابات سے پہلے حکومت پر دباؤ
فرانس اس وقت بڑی عوامی تحریکوں کا سامنا کر رہا ہے۔ صدارتی انتخابات سے پہلے عوامی ناراضگی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں نے گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب طلبہ اور اساتذہ تعلیم کے شعبے سے متعلق مسائل پر ناراض ہیں۔
تعلیمی بجٹ میں کٹوتی اور مہنگائی بھی احتجاج کی وجہ
فرانس میں اسکولوں کی خستہ حالی اور تعلیمی بجٹ میں کٹوتی کے خلاف بھی احتجاج تیز ہو گیا ہے۔ طلبہ اور اساتذہ حکومت پر تعلیمی نظام بہتر بنانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ایسے وقت میں صدر ایمانوئل میکرون کے لیے یہ تحریکیں سیاسی اعتبار سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہیں، کیونکہ ان کے دورِ اقتدار کے اختتام سے پہلے انہیں ایک بڑے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مقامی تحریک سے ملک گیر احتجاج تک
فرانس میں طلبہ کی یہ تحریک گزشتہ ماہ پیرس میں محدود پیمانے پر شروع ہوئی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کا دائرہ بڑھتا گیا اور یہ پورے ملک میں پھیل گئی۔ فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق، فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ قوتِ خرید میں کمی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 5.5 لاکھ افراد نے حصہ لیا۔ ان میں سے لگ بھگ 1.10 لاکھ افراد صرف پیرس کی سڑکوں پر موجود تھے۔ اس دوران کئی مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم بھی ہوا۔
بیلجیم میں طلبہ کا احتجاج
بیلجیم میں بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں ہے۔ سرکاری اخراجات میں کٹوتی اور گھریلو اخراجات بڑھنے سے طلبہ میں ناراضگی بڑھ گئی ہے۔ یونیورسٹیوں میں رجسٹریشن فیس بڑھانے کے فیصلے کے خلاف طلبہ نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ دارالحکومت برسلز اور لیژ میں مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو واٹر کینن کا استعمال کرنا پڑا۔
پرتگال میں مکان اور مہنگائی بڑا مسئلہ
پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ہزاروں افراد سڑکوں پر اتر آئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی مہنگائی، کم تنخواہوں اور گھر خریدنے یا کرائے پر لینے میں پیش آنے والی مشکلات نے عام لوگوں کی زندگی دشوار بنا دی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، لزبن اور دیگر شہروں میں 2017 کے بعد سے جائیدادوں کی قیمتیں دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ کرایوں میں تیزی سے اضافے نے کم آمدنی والے افراد اور نوجوان ملازمین پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
اٹلی میں بھی بڑھ رہی ہے ناراضگی
اٹلی میں بھی لوگوں کی بنیادی تشویش مہنگائی اور آمدنی کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔ میلان سمیت کئی شہروں میں لوگوں نے تنخواہوں میں ٹھہراؤ اور زندگی گزارنے کی بڑھتی لاگت کے خلاف مظاہرے کیے۔ روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں پیش آنے والی دشواریوں پر لوگوں نے احتجاج درج کرایا۔ اگرچہ وہاں ہونے والے مظاہرے فرانس کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹے رہے، لیکن عوامی ناراضگی واضح طور پر دکھائی دی۔
البانیہ میں طلبہ کا شدید احتجاج
البانیہ میں یونیورسٹیوں کی خراب حالت، تعلیم پر بڑھتے اخراجات اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے مناسب مواقع نہ ملنے سے طلبہ ناراض ہیں۔ 13 اکتوبر کو دارالحکومت تیرانا میں وزارت تعلیم کے باہر احتجاج کے دوران صورت حال کشیدہ ہو گئی۔ بعض مظاہرین نے عمارت کی جانب اینٹیں اور کنکریٹ کے ٹکڑے پھینکے، جس کے بعد پولیس نے مداخلت کی۔
ارجنٹینا میں تعلیمی فنڈنگ پر تنازع
ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں صدر خاویر میلی کی اعلیٰ تعلیم سے متعلق پالیسیوں کے خلاف بڑا مظاہرہ ہوا۔ تعلیمی بجٹ میں بھاری کٹوتی کے فیصلے پر طلبہ، یونیورسٹی ملازمین اور مزدور یونینوں سے وابستہ افراد نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا۔ زیادہ تر مظاہرے پُرامن رہے، تاہم بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ میلی حکومت کے قیام کے بعد تعلیمی فنڈنگ کے معاملے پر اسے پانچواں بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ میں بھی احتجاج جاری
امریکہ میں بھی سیاسی ناراضگی مختلف شکلوں میں سامنے آ رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کرنے والے ’نو کنگز‘ نیٹ ورک نے ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں منعقد کیں۔ منتظمین کے مطابق، ان کا مقصد لوگوں کو وسط مدتی انتخابات میں جلد ووٹ ڈالنے کے لیے بیدار کرنا تھا۔ اگرچہ ان پروگراموں کو غیر جماعتی قرار دیا گیا، لیکن انہیں ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف طویل عرصے سے جاری احتجاج کا حصہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
ہندوستان میں بھی احتجاج کی سیاست تیز
ہندوستان میں بھی ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر احتجاج جاری ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اور مختلف تنظیمیں اس معاملے پر مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں۔
مجموعی طور پر صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان سے لے کر یورپ، امریکہ اور لاطینی امریکہ تک لوگ اپنے معاشی اور سماجی مسائل پر کھل کر احتجاج کر رہے ہیں۔ عوامی ناراضگی اب کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہی، بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑے سیاسی اور سماجی چیلنج کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




