Bharat Express DD Free Dish

Protests in Italy: اٹلی میں حکومت مخالف مظاہرے پُرتشدد، میلونی نے کہا-  پُرامن احتجاج کا احترام، تشدد برداشت نہیں

فرانس اور اسپین میں ہونے والی تحریکوں سے متاثر ہوکر ان دنوں اٹلی میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ ان تمام مظاہروں کا مشترکہ مقصد وزیر اعظم جارجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت کی مخالفت کرنا ہے۔

روم: اٹلی میں مہنگائی اور تعلیمی نظام کی بگڑتی صورت حال کے خلاف عوامی غصہ پھوٹ پڑا ہے۔ وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت کے خلاف طلبہ، اساتذہ اور مزدور یونینیں سڑکوں پر اتر آئی ہیں۔ روم سمیت کئی شہروں میں اسکولوں پر قبضے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔

فرانس اور اسپین کی تحریکوں سے متاثر ہوکر اٹلی میں احتجاج

فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق، فرانس اور اسپین میں ہونے والی تحریکوں سے متاثر ہوکر ان دنوں اٹلی میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ ان تمام مظاہروں کا مشترکہ مقصد وزیر اعظم جارجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت کی مخالفت کرنا ہے۔ وزیر اعظم میلونی نے ملک میں ہونے والے ان مظاہروں کے دوران تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

پُرامن مظاہرین کا احترام، لیکن تشدد کی اجازت نہیں: میلونی

میلونی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’میرے دل میں ان ہزاروں لوگوں کے لیے بہت احترام ہے جو پُرامن طریقے سے احتجاج کرتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سی جی آئی ایل کی اپیل پر منعقدہ مظاہرے میں شریک ہوئے، جس میں بائیں بازو کے لیڈران نے بھی حصہ لیا۔ لوگ کسی بھی نظریے یا مطالبے کے لیے احتجاج کریں، لیکن جمہوریت کو مضبوط رکھنے کے لیے عوام کی شرکت بے حد ضروری ہے۔‘‘

میلان، ٹیورن اور بولونیا میں تشدد، کئی مقامات پر حالات کشیدہ

وزیر اعظم نے کہا کہ اٹلی کے بعض دیگر شہروں میں جو کچھ ہوا، اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ میلان میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا گیا، کئی اہلکار زخمی ہوئے اور توڑ پھوڑ کے ساتھ تشدد کے واقعات پیش آئے۔ حالات اتنے خراب ہو گئے کہ جلوس کو درمیان میں ہی روکنا پڑا۔ ٹیورن میں کچھ لوگوں کو پتھر اور کھڑکیاں توڑنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھوڑوں کے ساتھ روکا گیا۔ وہیں بولونیا میں تشدد اور ہنگامے کے باعث احتیاطی طور پر ریلوے اسٹیشن بند کرنا پڑا۔

میلونی نے کہا کہ کچھ شرپسند عناصر مظاہروں کا فائدہ اٹھا کر افراتفری پھیلاتے ہیں، امن و امان برقرار رکھنے والے اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں اور پورے شہر کے لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا، ’’مظاہرہ کرنا ہر شخص کا حق ہے، لیکن اپنے شہروں کو تشدد اور آتش زنی کی نذر کرنا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘

اپوزیشن سے پُرتشدد واقعات کی کھل کر مذمت کرنے کی اپیل

وزیر اعظم میلونی نے کہا، ’’میں ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس معاملے پر کوئی ابہام نہ رکھیں۔ ان پُرتشدد واقعات کی واضح اور کھل کر مذمت کریں اور ہر مظاہرے کو پُرامن رکھنے کی دوٹوک اپیل کریں۔ ایسے مناظر دیکھ کر ہر کسی کو متحد ہوکر ان کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی اس معاملے پر خاموش رہتا ہے یا مذمت کرنے میں ہچکچاہٹ دکھاتا ہے تو اسے کسی حد تک تشدد کی حمایت سمجھا جا سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں خاموشی قابل قبول نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read