Bharat Express DD Free Dish

Anthropic Claude AI Houthi Rebels Missile Software: ’انسانی انجینئروں کی چھٹی، اے آئی سے کوڈنگ!‘ حوثی باغیوں نے کلاؤڈ اے آئی کی مدد سے میزائل سافٹ ویئر بنانے کی کوشش کی، دیکھیں ویڈیو

سائبر سکیورٹی: اے آئی کمپنی اینتھروپک نے تسلیم کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے اس کے کلاڈ اے آئی چیٹ بوٹ اور کوڈنگ ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے گائیڈڈ راکٹ اور ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کے سافٹ ویئر کوڈ تیار کرنے کی کوشش کی۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال سے متعلق ایک تشویش ناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ معروف اے آئی کمپنی اینتھروپک نے تسلیم کیا ہے کہ یمن کے شمالی علاقے میں سرگرم حوثی باغیوں سے وابستہ ایک انجینئرنگ ٹیم نے اس کے اے آئی چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ اور کوڈنگ ٹولز کا غلط استعمال کیا۔ اس گروپ نے اے آئی کی مدد سے جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کے رہنمائی نظام، نیویگیشن اور کنٹرول سافٹ ویئر تیار کرنے کی کوشش کی۔ اس انکشاف نے اے آئی ٹیکنالوجی کی حفاظت اور عالمی سلامتی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اینتھروپک کی رپورٹ کے مطابق، حوثی گروپ نے دسمبر 2025 سے اگست 2026 کے درمیان کلاڈ اے آئی کے متعدد الگ الگ نظام بیک وقت استعمال کیے۔ اس کے ذریعے انسانی انجینئروں کے بجائے اے آئی سے کوڈنگ، تحقیق اور کوڈ کا جائزہ لینے کا کام لیا گیا۔

اے آئی کے حفاظتی نظام سے بچنے کے لیے انہوں نے براہ راست ’میزائل‘ یا ’ہتھیار‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے کے بجائے اپنے کام کو سیکڑوں چھوٹے حصوں اور الگ الگ نشستوں میں تقسیم کردیا۔ اے آئی کے تیار کردہ کوڈ سے ایک گائیڈڈ راکٹ کا تجربہ ناکام ہونے کے بعد جب انہوں نے کلاڈ سے کوڈ کی غلطیاں معلوم کرنے کی کوشش کی تو اینتھروپک کے حفاظتی نظام نے مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے تمام اکاؤنٹس بند کردیے۔

حوثی باغیوں نے اے آئی سے ہتھیاروں کا سافٹ ویئر تیار کرنے کی کوشش کی

یمن کے حوثی باغیوں سے وابستہ ایک تکنیکی ٹیم نے اینتھروپک کے اے آئی ماڈل ’کلاڈ‘ کی مدد سے تین اہم ہتھیاروں کے نظام کے لیے رہنمائی، نیویگیشن اور کنٹرول (جی این سی) سافٹ ویئر کا کوڈ تیار کرنے کی کوشش کی۔ ان میں موبائل فون جیسے عام ہارڈ ویئر پر کام کرنے والا گائیڈڈ راکٹ، 2,000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والا کثیر مرحلوں پر مشتمل بیلسٹک میزائل اور ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل (ایچ جی وی) قسم کے ’آر 2000‘ میزائل خاندان کا ایک ماڈل شامل تھا۔ اس گروپ نے اوپن سورس آٹو پائلٹ سافٹ ویئر کو دوسرے نظاموں کے ساتھ جوڑنے اور پرواز کی نقل پر مبنی آزمائشیں کرنے کے لیے بھی کلاڈ کی مدد لی۔

اے آئی کے حفاظتی نظام کو کیسے چیلنج دیا گیا؟

اے آئی ٹولز میں موجود حفاظتی انتظامات اور سخت فلٹرز سے بچنے کے لیے حوثی انجینئروں نے ایک حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے پورے منصوبے کو سیکڑوں چھوٹے چھوٹے سوالات اور الگ الگ نشستوں میں تقسیم کردیا۔

اس دوران انہوں نے براہ راست ’میزائل‘، ’راکٹ‘ یا ’ہتھیار‘ جیسے ممنوعہ الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا۔ رپورٹ کے مطابق، اس طریقے سے کلاڈ اے آئی کو ان کے اصل فوجی مقاصد کا اندازہ نہیں ہوسکا اور وہ کوڈنگ میں مدد فراہم کرتا رہا۔

راکٹ کا تجربہ ناکام ہونے پر معاملہ سامنے آیا

اے آئی کے تیار کردہ کوڈ کی مدد سے اس گروپ نے ایک گائیڈڈ راکٹ کا عملی تجربہ کیا، لیکن راکٹ اڑان بھرتے ہی ناکام ہوکر گر گیا۔ تجربہ ناکام ہونے کے فوراً بعد حوثی انجینئروں نے دوبارہ کلاڈ اے آئی سے رابطہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کوڈنگ میں کیا غلطی رہ گئی تھی۔ ناکامی کی وجوہات معلوم کرنے اور تکنیکی خرابی دور کرنے کی اس کوشش کے دوران اینتھروپک کے خودکار حفاظتی نظام کو مشتبہ سرگرمیوں کا اندازہ ہوا۔

اینتھروپک کی کارروائی، تمام اکاؤنٹس بند

مشتبہ سرگرمیوں کی تصدیق کے بعد اینتھروپک نے حوثی گروپ سے وابستہ تمام اکاؤنٹس فوری طور پر بند کردیے اور متعلقہ حفاظتی اداروں کو بھی اس بارے میں مطلع کیا۔ کمپنی نے واضح کیا کہ اس بات کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے کہ حوثی باغی مکمل طور پر فعال ہتھیار کو تیار کرکے اسے استعمال کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ تاہم، دسمبر 2025 سے اگست 2026 کے درمیان پیش آنے والے اس واقعے نے یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ انتہا پسند گروہ اور دیگر عناصر خطرناک فوجی سازوسامان تیار کرنے کی کوششوں میں مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read