پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ شام تقریباً 6:30 بجے پیش آیا، جب دونوں طالب علم اسکول سے باہر نکل رہے تھے۔ اسی دوران کچھ افراد نے انہیں گھیر لیا اور ان پر حملہ کر دیا۔ حملہ آوروں نے ایک طالب علم پر چاقو سے 2 وار کیے، جن میں ایک وار گردن پر کیا گیا۔ حملے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ حملے میں ملوث کچھ افراد اسی اسکول کے طالب علم ہو سکتے ہیں۔ حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد کی شناخت اور حملے کی اصل وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
معمولی تنازعے کے بعد حملے کا شبہ
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعے کی وجہ ایک طالب علم اور مشتبہ حملہ آوروں میں سے کسی ایک کے درمیان ہونے والا تنازعہ ہو سکتا ہے۔ ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ مقتول کے ایک دوست کا مشتبہ ملزم کے ساتھ معمولی بات پر جھگڑا ہوا تھا۔ اس جھگڑے کے دوران وہ دوست بھی موجود تھا اور مبینہ طور پر اس کا تعلق مقتول سے تھا۔ تفتیشی افسران اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا پہلے ہونے والے اس جھگڑے کے سبب اسکول کی چھٹی کے بعد دونوں طالب علموں کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس حراست میں لیے گئے دونوں مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ حملے میں دیگر افراد کے ملوث ہونے کا بھی پتہ لگایا جا سکے۔
پولیس کو واقعے کی اطلاع شام 6:35 بجے ملی، جس کے بعد ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور تحقیقات شروع کر دیں۔
دہلی میں اسکول کے باہر تشدد کے پہلے بھی واقعات
دہلی میں اسکول کے طلبہ کے درمیان تنازعات کے دوران جان لیوا تشدد کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ جنوری 2025 میں مشرقی دہلی کے شکَرپور علاقے میں ایک سرکاری اسکول کے باہر ’پٹھو‘ (سات پتھر) کھیلنے کے معاملے پر دو طالب علموں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ یہ تنازعہ بڑھ گیا اور ایک گروپ نے 14 سالہ لڑکے کو چاقو مار کر قتل کر دیا تھا۔ حملہ آوروں میں مقتول کا ایک ہم جماعت بھی شامل تھا۔ اسی طرح 2024 میں مغربی دہلی کے وکاس پوری علاقے کے ایک اسکول کے دو طالب علموں کے درمیان جھگڑے نے سنگین رخ اختیار کر لیا تھا۔ الزام تھا کہ ان میں سے ایک طالب علم کا والد باؤنسرز کے ساتھ اسکول پہنچا اور دوسرے طالب علم کی پٹائی کی۔ بتایا گیا تھا کہ اس نے دوسرے لڑکے کو ’سبق سکھانے‘ کے لیے ایسا کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



