نئی دہلی: دیوالی سے پہلے دہلی کے بازاروں میں رونق برقرار رکھنے کے لیے تاجروں نے مرکزی حکومت سے اہم مطالبہ کیا ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر دیوالی تک راجدھانی میں بڑے دھرنوں، مظاہروں اور مارچ پر پابندی لگانے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم نے 16 اکتوبر کو کناٹ پلیس میں مجوزہ ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ کی اجازت نہ دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
تاجروں کو کاروبار متاثر ہونے کی فکر
سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل کا کہنا ہے کہ تہواروں کے اس اہم وقت میں بڑے مظاہروں سے دہلی کے بازاروں میں خریداری متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خط میں بتایا کہ کناٹ پلیس، جن پتھ، پالیکا بازار، خان مارکیٹ اور لٹینز دہلی جیسے اہم تجارتی علاقوں پر اس کا براہ راست اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ تنظیم کے مطابق، دہلی کے تقریباً 20 لاکھ تاجر اس صورت حال کو لے کر فکرمند ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ دیوالی کے دوران ملک بھر سے لوگ خریداری کے لیے راجدھانی پہنچتے ہیں۔ ایسے میں سڑکوں پر مظاہروں، ٹریفک جام اور سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہوئی تو بازاروں کی فروخت متاثر ہو سکتی ہے۔
2 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے نقصان کا دعویٰ
سی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دھرنوں اور مظاہروں کے دوران دہلی میں لاک ڈاؤن جیسے حالات پیدا ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ سے باہر سے آنے والے خریداروں کے ساتھ مقامی صارفین کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی۔ تنظیم کے مطابق، ان مظاہروں کے باعث تاجروں کو 2 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔
دیوالی تک مظاہرے روکنے کی اپیل
برجیش گوئل نے کہا کہ نوراتری، رام لیلا اور دیوالی کا وقت تاجروں کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔ سال بھر کے کاروبار میں تہواروں کے دوران ہونے والی فروخت کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ ایسے میں بازاروں میں معمول کی سرگرمیاں جاری رہنا ضروری ہے۔ سی ٹی آئی نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ دیوالی تک بڑے مظاہروں کی اجازت نہ دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی تنظیم نے پروگرام منعقد کرنے والوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ تہواروں کے دوران ایسے اجتماعات سے گریز کریں۔ برجیش گوئل نے اس مطالبے کے سلسلے میں ایک ویڈیو بھی جاری کیا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت اور انتظامیہ تاجروں کے اس مطالبے پر کیا فیصلہ کرتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



