تحریر: ڈاکٹر راجیب کے مشرا
ہمالیہ کو اکثر جنوبی ایشیا میں صاف توانائی کے ذخیرے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ نیپال کے دریا اس کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور تیزی سے بدلتے ہوئے بجلی کے نظام میں توازن قائم کرنے کے لیے ہندوستان کی بھی مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن قدرتی آفات کے سلسلے نے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا ہم صرف بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں یا ایسی بجلی کے حصول میں بھی، جو ضرورت کے وقت قابلِ اعتماد طریقے سے دستیاب رہے؟
اکتوبر 2023 میں سکم کے 1200 میگاواٹ کے تیستا-III پن بجلی منصوبے کی تباہی اور اگست 2026 میں نیپال کے بھوٹے کوشی-تریشولی دریائی نظام میں پیش آنے والی آفت ایک جیسی کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ پہاڑوں کی بلندیوں سے شروع ہونے والا ایک شدید قدرتی واقعہ نچلے علاقوں میں موجود بنیادی ڈھانچے کو ناکارہ بنا سکتا ہے اور ایک ہی دریا کے راستے میں قائم کئی منصوبوں کی کارکردگی متاثر کر سکتا ہے۔
4 اکتوبر 2023 کو جنوبی لوناک جھیل سے شروع ہونے والے گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے سے آنے والے سیلاب نے وادیٔ تیستا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تیستا-III منصوبہ تباہ ہو گیا اور نچلے علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ سائنسی تحقیقات میں کئی باہم جڑے خطرات کی نشاندہی کی گئی، جن میں غیر مستحکم پہاڑی ڈھلوانیں، برف کی نقل و حرکت، تودوں کا ملبہ اور تیزی سے آگے بڑھتا سیلابی پانی شامل ہیں۔
26 اگست 2026 کو لینگٹانگ لیرونگ سے چٹانوں اور برف کا ایک تودہ مبینہ طور پر نیپال کی لہندے کھولا وادی میں گرا اور پھر بھوٹے کوشی-تریشولی دریائی نظام میں تباہ کن ملبے کے سیلاب میں تبدیل ہو گیا۔ اس واقعے کی ابتدا سکم میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب سے مختلف تھی، لیکن بجلی کے نظام پر اس کے اثرات تقریباً یکساں رہے۔
انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کی جانب سے پیش کیے گئے جائزوں کے مطابق، اس آفت سے بجلی پیدا کرنے والے 12 زیرِ استعمال منصوبے متاثر ہوئے، جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 431 میگاواٹ تھی۔ اس کے علاوہ زیرِ تعمیر 15 منصوبے بھی متاثر ہوئے، جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 470 میگاواٹ تھی۔ یہ اعداد و شمار متاثرہ صلاحیت کے ہیں، نہ کہ مستقل طور پر تباہ ہونے والی صلاحیت کے۔
یہ واقعات الگ تھلگ نہیں ہیں۔ 2013 میں کیدارناتھ میں آنے والے سیلاب سے اتراکھنڈ میں پن بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچا تھا۔ 2021 میں چمولی میں چٹانوں اور برف کے تودے نے 13.2 میگاواٹ کے رشی گنگا منصوبے کو تباہ کر دیا تھا، جبکہ 520 میگاواٹ کے تپوون-وشنوگڑھ منصوبے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس واقعے میں قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ اسی طرح 2023 میں ہماچل پردیش میں مون سون کے شدید سیلاب نے پن بجلی کی پیداوار اور آپریشن کو متاثر کیا۔ ہمالیہ میں خطرات صرف گلیشیائی جھیلوں تک محدود نہیں، بلکہ ان میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے تیز بہاؤ، برفانی تودے اور شدید بارشیں بھی شامل ہیں۔
اس کے باوجود پن بجلی کے بیشتر منصوبوں کی منصوبہ بندی اب بھی انفرادی بنیادوں پر کی جاتی ہے، حالانکہ کئی منصوبے، بجلی کے سب اسٹیشن، سڑکیں اور ترسیلی لائنیں ایک ہی خطرے سے دوچار دریائی خطے میں موجود ہو سکتی ہیں۔ کسی ڈیم کا مضبوط اور محفوظ ڈیزائن بھی بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی کی ضمانت نہیں دے سکتا، اگر بجلی کو آگے پہنچانے والا پورا راستہ ہی قدرتی آفات کے خطرے کی زد میں ہو۔
ہندوستان اور نیپال کے پاس بجلی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی ٹھوس وجوہات ہیں۔ جنوری 2024 میں ہونے والے طویل مدتی معاہدے کے تحت دس برس میں نیپال سے ہندوستان کو 10,000 میگاواٹ تک بجلی کی برآمد میں سہولت فراہم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ نیپال کے پاس پن بجلی کے وسیع وسائل ہیں، جبکہ ہندوستان میں بجلی کی بڑی منڈی موجود ہے۔ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھنے کے ساتھ ہندوستان کو ایسے نظام کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے جو بجلی کی پیداوار اور طلب میں اتار چڑھاؤ کے دوران توازن برقرار رکھ سکے۔ مظفرپور-ڈھلکبار جیسے سرحد پار بجلی ترسیلی رابطے اس شراکت داری کو مزید عملی بنا رہے ہیں۔
تاہم، ہمالیائی پن بجلی کو دو الگ طرح کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ پہلی رکاوٹ دریاؤں میں موسم کے لحاظ سے پانی کی دستیابی ہے۔ خشک مہینوں میں، خاص طور پر رن آف دی ریور منصوبوں میں، بجلی کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ دوسری رکاوٹ شدید ارضیاتی اور موسمیاتی واقعات ہیں، جو اچانک بجلی کی فراہمی بند کر سکتے ہیں اور کئی مرتبہ نظام کی بحالی میں طویل وقت لگتا ہے۔ صرف نصب شدہ میگاواٹ کا حوالہ دینے سے ان دونوں چیلنجوں کی درست عکاسی نہیں ہوتی۔
اسی لیے منصوبہ سازوں کو ایک اضافی پیمانے پر غور کرنا چاہیے، جسے موسمیاتی حالات کے مطابق قابلِ اعتماد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت (کلائمیٹ ایڈجسٹڈ ڈیپینڈیبل کیپیسٹی، CADC) کہا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے اندازہ لگایا جا سکے گا کہ اہم اوقات میں پن بجلی کی کتنی مقدار قابلِ اعتماد طریقے سے فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس جائزے میں موسمی طور پر پانی کی دستیابی، دیکھ بھال، اچانک خرابیوں کے باعث بندش، شدید قدرتی خطرات، ایک ساتھ کئی منصوبوں کی بندش، ترسیلی نظام کی حدود اور بحالی میں لگنے والے وقت کو شامل کیا جائے گا۔
یہ ایک مجوزہ تجزیاتی فریم ورک ہے، کوئی تسلیم شدہ ضابطہ جاتی معیار نہیں۔ اسے نافذ کرنے سے پہلے تفصیلی ماڈلنگ اور حقیقی اعداد و شمار کی بنیاد پر جانچ ضروری ہوگی۔
اس کا مقصد ہمالیائی پن بجلی کے تمام منصوبوں کو بلاامتیاز نقصان دہ قرار دینا نہیں ہے۔ اصل مقصد ایک ہی غیر محفوظ دریائی خطے میں مرکوز منصوبوں اور مختلف دریائی نظاموں میں پھیلے ہوئے ایسے منصوبوں کے مجموعے کے درمیان فرق واضح کرنا ہے، جسے ذخیرہ کرنے کی سہولتوں اور بجلی کی ترسیل کے متبادل راستوں کی مدد حاصل ہو۔ نصب شدہ صلاحیت کے اعتبار سے یکساں دو منصوبہ جاتی مجموعوں کی قابلِ اعتماد فراہمی اور اقتصادی قدر میں نمایاں فرق ہو سکتا ہے۔
نیپال کی آفت نے سرحد پار بجلی کے رابطوں کے ایک ایسے فائدے کو بھی اجاگر کیا ہے، جس پر عموماً کم توجہ دی جاتی ہے: بجلی کی تجارت دونوں سمتوں میں ہنگامی مدد فراہم کر سکتی ہے۔ رپورٹ کردہ انتظام کے مطابق، اس واقعے کے بعد ہندوستان نے دسمبر 2026 تک روزانہ 18 گھنٹے کے لیے نیپال کو 654 میگاواٹ تک بجلی برآمد کرنے کی منظوری دی۔ اس طرح جس تعاون کو عام طور پر نیپال کی جانب سے ہندوستان کو اضافی پن بجلی فروخت کرنے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، وہ بجلی کی فراہمی کے بحران میں نیپال کی مدد کا ذریعہ بھی بن گیا۔
سرمایہ کاری کے جائزے میں اس حفاظتی فائدے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ دونوں سمتوں میں بجلی کی ترسیل کی سہولت قلت سے بچنے، مہنگے ہنگامی ذرائع سے بجلی حاصل کرنے کی ضرورت کم کرنے اور نظام کی بحالی تیز کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے فوائد معمول کے حالات میں بجلی کی تجارت سے حاصل ہونے والے منافع تک محدود نہیں ہیں۔
کیا تبدیلیاں ضروری ہیں؟
سب سے پہلے، پن بجلی منصوبوں کی جانچ کو صرف انفرادی منصوبے کی حفاظت تک محدود رکھنے کے بجائے پورے دریائی خطے میں متعدد قدرتی خطرات کا جائزہ لینا ہوگا۔ اس میں بجلی کی ترسیلی لائنوں اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کے خطرات بھی شامل ہونے چاہئیں۔ دوسرے، بجلی کی خریداری اور منصوبوں کی مالی اعانت کے فیصلوں میں جغرافیائی تنوع اور ایک ہی واقعے سے کئی منصوبوں کے بیک وقت ناکام ہونے کے خطرے کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ تیسرے، ذخیرہ کرنے والے پن بجلی منصوبوں، پمپڈ اسٹوریج اور بیٹری اسٹوریج کا مشترکہ طور پر جائزہ لیا جانا چاہیے، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ بجلی کے نظام میں لچک اور مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے ہر طریقہ کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ چوتھے، قدرتی آفات سے پہلے خبردار کرنے والے نظام کو بجلی کے نظام کے آپریشن سے براہِ راست جوڑنا ضروری ہے۔ شدید سیلاب یا پہاڑی ڈھلوانوں کے غیر مستحکم ہونے کی وارننگ ملنے پر بجلی کی پیداوار کا شیڈول، اضافی بجلی کے انتظام، ذخیرہ شدہ توانائی کے استعمال اور سرحد پار ہنگامی مدد سے متعلق فیصلے کیے جانے چاہئیں۔
آخر میں، قرض فراہم کرنے والے اداروں اور سرکاری ایجنسیوں کو منصوبوں کی بحالی کے حقیقی اخراجات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت کو مالی جائزے میں شامل کرنا چاہیے۔ تاہم، تمام ہمالیائی منصوبوں پر یکساں اضافی خطراتی لاگت عائد کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ ہندوستان اور نیپال مشترکہ طور پر ایسے طریقے تیار کر سکتے ہیں جن سے قابلِ اعتماد بجلی برآمد کرنے کی صلاحیت، دریائی خطے کی سطح پر خطرات اور آفت کے بعد بحالی کی اہلیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس کام میں بجلی کے منصوبہ سازوں، آبی وسائل کے ماہرین، ڈیموں کی حفاظت سے متعلق ماہرین اور موسمیاتی سائنس دانوں کو ایک ساتھ لانا ضروری ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان 10,000 میگاواٹ بجلی کی تجارت کا ہدف ترک کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی، موسم کے لحاظ سے دستیابی اور ترسیلی نظام کی مضبوطی کے پیمانے بھی شامل ہونے چاہئیں۔ مستقبل میں یہی طریقہ بھوٹان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے درمیان بجلی کے تعاون کے لیے بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔
تیستا سے تریشولی تک کے واقعات کا سبق یہ نہیں ہے کہ ہمالیائی پن بجلی کا کوئی مستقبل نہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ اس مستقبل کا اندازہ صرف تعمیر کیے گئے یا معاہدوں میں شامل میگاواٹ سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کتنی بجلی فراہم کی جا سکتی ہے، اس کی لاگت اور خطرات کیا ہوں گے، اور کسی آفت کے بعد بجلی کی فراہمی کتنی تیزی سے بحال کی جا سکتی ہے۔
جنوبی ایشیا کو سرحد پار بجلی کی تجارت سے آگے بڑھ کر سرحد پار توانائی کے نظام کی مضبوطی اور آفات کے مقابلے کی مشترکہ صلاحیت پر توجہ دینی ہوگی۔
مصنف نئی دہلی میں قائم ادارے انٹیگریٹڈ ریسرچ اینڈ ایکشن فار ڈیولپمنٹ (IRADe) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور پی ٹی سی انڈیا لمیٹڈ کے سابق چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ مضمون میں پیش کیے گئے خیالات ان کے ذاتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





