Bharat Express DD Free Dish

Meerut Blue Drum Murder Case: میرٹھ کے نیلے ڈرم قتل معاملے میں عدالت کا بڑا فیصلہ، ساحل اور مسکان کو پھانسی کی سزا

میرٹھ کے مشہور سوربھ راجپوت قتل معاملے میں عدالت نے مسکان رستوگی اور اس کے عاشق ساحل شکلا کو سزائے موت سنائی ہے۔ ضلع جج اروند کمار مشرا نے دونوں پر 20، 20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ فیصلہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سنایا گیا، جسے سنتے ہی دونوں رونے لگے۔ سوربھ کے اہل خانہ نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف ملنے کی امید تھی۔

میرٹھ کے مشہور نیلے ڈرم قتل معاملے میں عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے سوربھ راجپوت کی بیوی مسکان رستوگی اور اس کے عاشق ساحل شکلا کو سزائے موت دی ہے۔ میرٹھ کے ضلع جج اروند کمار مشرا نے سزا سناتے ہوئے مہابھارت کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’’مجرموں کو سزا دینا ہی دھرم ہے۔‘‘ عدالت نے دونوں مجرموں پر 20، 20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ سزا کے اعلان کے وقت دونوں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ فیصلہ سنتے ہی مسکان اور ساحل پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ دوسری جانب، سوربھ کے اہل خانہ نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں عدالت سے انصاف ملنے کی امید تھی۔ سوربھ راجپوت کا قتل 3 مارچ 2025 کو ہوا تھا۔ پولیس کی تفتیش کے مطابق، قتل کے بعد لاش کے پانچ ٹکڑے کیے گئے اور انہیں نیلے ڈرم میں چھپا دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی تھی۔ اس معاملے میں سوربھ کی بیوی مسکان رستوگی اور اس کے عاشق ساحل شکلا کو ملزم بنایا گیا تھا۔ پولیس نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد دونوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ جولائی 2025 میں ضلع عدالت میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ استغاثہ نے عدالت میں اپنے شواہد پیش کرتے ہوئے دونوں کو مجرم قرار دینے کی درخواست کی تھی۔ عدالت پہلے ہی دونوں کو قتل اور شواہد چھپانے سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دے چکی تھی۔ اس کے بعد سزا کی مدت اور نوعیت پر سماعت ہوئی۔

جج نے مسکان سے پوچھا، کیا سزا چاہتی ہو؟

سزا سنانے سے پہلے بدھ کی صبح تقریباً 10:30 بجے ضلع جج اروند کمار مشرا نے جیل میں بند مسکان اور ساحل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ان کا موقف معلوم کیا۔ عدالت نے مسکان سے پوچھا کہ جب اسے اپنے شوہر سوربھ راجپوت کے قتل کے معاملے میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے تو وہ سزا کے بارے میں کیا کہنا چاہتی ہے۔ اس پر مسکان نے اپنی دونوں بیٹیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان بچیوں کا خیال رکھا جائے۔ اس کے بعد وہ خاموش ہو گئی۔ جب عدالت نے ساحل سے بھی سزا کے بارے میں اس کا موقف پوچھا تو اس نے کچھ کہنے سے انکار کر دیا۔ سماعت کے دوران جج نے ساحل سے یہ بھی پوچھا کہ کیا اس نے اس سے پہلے کوئی جرم کیا ہے۔ ساحل نے کسی سابقہ جرم سے انکار کیا۔

سرکاری وکیل نے مانگی تھی سزائے موت

سزا کے معاملے پر بحث کے دوران سرکاری وکیل کے کے چوبے نے مسکان اور ساحل کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے اور جرم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے دونوں کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ دوسری جانب، دفاعی وکیل ریکھا جین نے عدالت سے کم سزا دینے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے مسکان کی دو بیٹیوں اور اس کے بزرگ والدین کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست کی تھی کہ سزا کا فیصلہ کرتے وقت ان حالات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ تاہم، دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے مسکان اور ساحل کو سزائے موت سنائی۔ استغاثہ کے وکیل وجے بہادر کے مطابق، دونوں پر 20، 20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

سوربھ کے بھائی بولے، ہمیں انصاف ملا

عدالت کے فیصلے کے بعد سوربھ کے اہل خانہ نے راحت کا اظہار کیا۔ اس کے بھائی ببلو نے کہا کہ خاندان کو شروع سے امید تھی کہ عدالت سے انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اہل خانہ ابتدا ہی سے دونوں مجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کر رہے تھے اور عدالت کے فیصلے سے انہیں خوشی ہوئی ہے۔ ببلو نے کہا کہ اگر ملزم فریق آگے قانونی کارروائی کرتا ہے تو ان کا خاندان بھی اپنا موقف پیش کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا خاندان مسکان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔ سوربھ کے بھائی نے دونوں بچیوں کے بارے میں بھی اپنی بات رکھی۔ ان کے مطابق، خاندان مسکان کو قبول نہیں کرنا چاہتا اور ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کے باوجود وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔

مضبوط پیروی کے بعد سنائی گئی سزا

نیلے ڈرم قتل معاملے میں پولیس نے تفتیش کے دوران جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی تھی۔ اس کے بعد مقدمہ عدالت میں چلا، جہاں استغاثہ نے دونوں ملزموں کے خلاف دلائل پیش کیے اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ عدالت پہلے ہی مسکان اور ساحل کو مجرم قرار دے چکی تھی۔ بدھ کے روز سزا کے بارے میں حتمی فیصلہ سنایا گیا۔ دونوں کو سزائے موت دیے جانے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر ملک بھر میں موضوع بحث بن گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read