نئی دہلی: دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے معاملے پر جاری احتجاج کے درمیان اپوزیشن جماعتوں کے مظاہروں کی وجہ سے ٹریفک نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سلسلے میں دہلی ٹریفک پولیس نے منگل، 13 اکتوبر 2026 کو امن و قانون کی صورت حال کے پیش نظر ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ پولیس کے مطابق، شہر کی کئی اہم سڑکوں اور چوراہوں پر آمد و رفت متاثر ہو سکتی ہے۔دہلی ٹریفک پولیس نے واضح کیا ہے کہ زمینی صورت حال کے مطابق عارضی طور پر راستوں میں تبدیلی اور گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ گاڑی چلانے والوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، راستوں کی تبدیلی سے متعلق اشاروں اور ٹریفک اہلکاروں کی ہدایات پر عمل کریں اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔
احتجاج کے دوران ان راستوں پر ٹریفک متاثر ہونے کا امکان
دہلی ٹریفک پولیس کے مطابق، پنچکوئیاں گول چکر کے آس پاس ٹریفک متاثر ہو سکتا ہے۔ اس علاقے میں جام لگنے یا گاڑیوں کے راستے تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ منڈی ہاؤس گول چکر کے آس پاس بھی آمد و رفت میں پریشانی پیش آ سکتی ہے۔دیگر ممکنہ متاثرہ مقامات میں ڈاکٹر دنیش نندنی ڈالمیا چوک، رام چرن اگروال چوک (اے پوائنٹ)، منٹو روڈ، دین دیال اپادھیائے مارگ، گرو نانک چوک، چیمس فورڈ روڈ اور کناٹ پلیس کے آؤٹر سرکل کا ٹی پوائنٹ شامل ہیں۔اس کے علاوہ بھیرو روڈ اور ایم جی ایم (رنگ روڈ) کا ٹی پوائنٹ، لودھی روڈ فلائی اوور، نیلا گنبد گول چکر اور سردار پٹیل مارگ و پنچ شیل مارگ کی کراسنگ پر بھی ٹریفک متاثر رہنے کا اندیشہ ہے۔
بھیکاجی کاما پلیس سے کناٹ پلیس تک ان مقامات پر بھی نظر رکھیں
ٹریفک پولیس نے جن دیگر مقامات پر آمد و رفت متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے، ان میں بھیکاجی کاما پلیس کے نیچے کا حصہ، موتی باغ فلائی اوور کے نیچے، رنگ روڈ اور سین مارٹن مارگ کا ٹی پوائنٹ، اشوکا روڈ اور جنتر منتر روڈ کا گول چکر، ریل بھون گول چکر اور جے سنگھ روڈ و پارلیمنٹ مارگ کی کراسنگ شامل ہیں۔کناٹ پلیس کے آؤٹر سرکل اور بارہ کھمبا روڈ کا ٹی پوائنٹ، پٹیل چوک گول چکر، جے سنگھ روڈ اور اشوکا روڈ کا ٹی پوائنٹ، آر ایم ایل اسپتال گول چکر اور کناٹ پلیس کے آؤٹر سرکل و پارلیمنٹ مارگ کے سنگم پر بھی ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹریفک پولیس نے کیا ہدایت دی؟
دہلی ٹریفک پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں ٹریفک متاثر ہونے کا امکان ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر جگہ آمد و رفت مکمل طور پر بند ہو۔ امن و قانون کی صورت حال کے مطابق راستوں کی تبدیلی کے انتظامات میں بھی ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر گاڑیوں کو متبادل راستوں سے روانہ کیا جائے گا۔پولیس نے ٹریفک سے متعلق تازہ معلومات حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے روابط اور واٹس ایپ نمبر بھی فراہم کیے ہیں، تاکہ لوگ گھر سے نکلنے سے پہلے راستوں کی صورت حال معلوم کر سکیں اور سفر کے دوران ہونے والی پریشانی سے بچ سکیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

