مغربی بنگال کے دارجلنگ ضلع میں بھارت-نیپال سرحد پر سکیورٹی ایجنسیوں نے انسانی اسمگلنگ کے ایک معاملے کا انکشاف کیا ہے۔ اس کارروائی میں میزورم کی رہنے والی 17 سالہ دو لڑکیوں کو بچایا گیا، جبکہ احمد آباد کے ایک 61 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ملزم ایک لڑکی کو نیپال میں کیسینو میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر سرحد پار لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ دوسری لڑکی کو سلی گوڑی میں واقع اس کے گھر سے بازیاب کرایا گیا، جہاں اس سے گھریلو ملازمہ کا کام لیا جا رہا تھا۔ یہ کارروائی 11 اکتوبر کی شام پانی ٹنکی سرحد پر کی گئی۔ مسلح سرحدی فورس (ایس ایس بی) نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’جسٹ رائٹس فار چلڈرن‘ (جے آر سی) کی معاون تنظیم ’کوسی لوک منچ‘ کے ساتھ مل کر ایک مشتبہ شخص کو روکا۔ اس وقت اس کے ساتھ میزورم کی 17 سالہ لڑکی موجود تھی اور دونوں نیپال جانے کی تیاری کر رہے تھے۔
پوچھ گچھ کے دوران لڑکی نے بتایا کہ اس کے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ ملزم طویل عرصے سے اس کے والدین کا دوست رہا تھا، اس لیے وہ اسے جانتی تھی۔ لڑکی کے مطابق، اسے نیپال میں کیسینو میں نوکری دلانے کی بات کہی گئی تھی۔ تاہم، پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے لڑکی سے اپنے تعلقات کے بارے میں الگ معلومات دیں۔ ملزم نے دعویٰ کیا کہ ممبئی اور پونے میں اس کے کئی اسپا سینٹر ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ممبئی میں اس کے ایک ادارے میں کام کرنے والی خاتون نے اس کی ملاقات لڑکی سے کرائی تھی۔ لڑکی نوکری کی تلاش میں تھی اور اسی سلسلے میں اس سے رابطے میں آئی تھی۔ تفتیشی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ لڑکی کی ملازمت کی ضرورت کا فائدہ اٹھا کر اسے نیپال لے جانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
موبائل فون کی جانچ میں قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز ملیں
معاملے کی تفتیش کے دوران جب ملزم کے موبائل فون کی جانچ کی گئی تو اس میں نابالغ لڑکیوں سے متعلق فحش تصاویر اور ویڈیوز ملیں۔ فون میں بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق مواد بھی موجود تھا۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ اس مواد میں بچائی گئی پہلی لڑکی سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل تھیں۔ پوچھ گچھ آگے بڑھنے پر حکام کو معلوم ہوا کہ میزورم کی ایک اور 17 سالہ لڑکی ملزم کے سلی گوڑی میں واقع گھر میں رہ رہی ہے۔ اس کے بعد ٹیم نے متعلقہ پولیس حکام سے رابطہ کیا اور بھکتی نگر تھانے کو پورے معاملے کی اطلاع دی۔
رات تقریباً 11 بجے گھر سے دوسری لڑکی کو بچایا گیا
شکایت درج کرانے کے بعد ٹیم اسی رات تقریباً 11 بجے ملزم کے گھر پہنچی۔ وہاں دوسری نابالغ لڑکی موجود تھی، جسے بحفاظت باہر نکالا گیا۔ معلومات کے مطابق، اسے بھی نوکری دلانے کا یقین دلا کر وہاں لایا گیا تھا، لیکن اس سے گھر کے اندر گھریلو کام کرایا جا رہا تھا۔ دوسری لڑکی کے موبائل فون کی جانچ میں بھی نابالغوں سے متعلق فحش تصاویر، ویڈیوز اور بچوں کے جنسی استحصال سے جڑا مواد ملنے کی بات سامنے آئی۔ اس میں ایسا مواد بھی شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس میں ملزم کی موجودگی بتائی گئی ہے۔ دوسری لڑکی کو بچانے کے بعد ٹیم واپس پانی ٹنکی سرحد پر پہنچی۔ حکام کی مدد سے ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔ ایس ایس بی نے ضروری دستاویزات پولیس کے حوالے کیں اور معاملے میں مزید قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔
متعدد قوانین کے تحت مقدمہ درج
کھوری باڑی تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق، ملزم کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)، بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے والے قانون (پاکسو)، غیر اخلاقی تجارت کی روک تھام کے قانون اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کی ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد دونوں لڑکیوں کو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے سامنے پیش کیا گیا۔
ملازمت کا لالچ دے کر بچوں کو دوسری جگہ لے جانے پر تشویش
’جسٹ رائٹس فار چلڈرن‘ کے قومی سکریٹری رشی کانت نے اس واقعے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت-نیپال سرحد پر حالیہ دنوں میں ہونے والی کارروائیوں سے ایک تشویش ناک صورت حال سامنے آ رہی ہے۔ کم عمر لڑکیوں کو ملازمت یا رقص کے پروگراموں میں کام دلانے کا وعدہ کرکے دوسری جگہ لے جانے کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ رشی کانت کے مطابق، کئی مرتبہ لڑکیوں کو یہ بھی واضح طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے اور وہاں ان سے کس طرح کا کام کرایا جائے گا۔ ایسی صورت حال میں بروقت مداخلت انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے ایس ایس بی کی کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی چوکسی غیر محفوظ حالات میں پھنسی لڑکیوں کو انسانی اسمگلنگ کے خطرے سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



