نئی دہلی: 7مئی اور 12 مئی 2025 کی یہ دو تاریخیں ہندوستانی کرکٹ شائقین طویل عرصے تک یاد رکھیں گے۔ انہی تاریخوں پر روہت شرما اور وراٹ کوہلی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ اب تقریباً ڈیڑھ سال بعد سابق ہندوستانی کرکٹر وسیم جعفر نے اس معاملے پر کھل کر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ جعفر کا کہنا ہے کہ وراٹ کوہلی کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ کیا گیا، اس سے وہ ناخوش ہو گئے تھے اور انہیں ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔وراٹ کوہلی ہندوستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں تیسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز کے طور پر اس فارمیٹ سے رخصت ہوئے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 9230 رنز بنائے۔ وہ 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے سے صرف 770 رنز دور تھے۔ اگر وہ مزید 893 رنز بنا لیتے تو سنیل گواسکر کے 10122 رنز کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے تھے۔ تاہم، اب حقیقت یہی ہے کہ وراٹ ریڈ بال کرکٹ کو الوداع کہہ چکے ہیں۔
اجیت اگرکر پر لگے الزامات
گزشتہ سال وراٹ کوہلی کی ریڈ بال سے پریکٹس کرتے ہوئے کئی ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔ ان ویڈیوز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ انگلینڈ دورے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایسے میں 12 مئی 2025 کو ان کی ریٹائرمنٹ کی خبر نے کرکٹ کی دنیا کو حیران کر دیا تھا۔وسیم جعفر نے اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اجیت اگرکر کی قیادت والی سلیکشن کمیٹی کے رویے سے پریشان ہو کر وراٹ کوہلی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا تھا۔ جعفر نے کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ وراٹ کوہلی کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ کیا گیا، وہ اس سے خوش نہیں تھے۔ وراٹ جیسے کھلاڑی شائقین کو اسٹیڈیم تک کھینچ لاتے ہیں اور ان کے مداحوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ وراٹ ابھی کافی عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ کھیل سکتے تھے۔ جب تک ہم خود وراٹ کے منہ سے یہ بات نہیں سن لیتے، ہمیں اصل حقیقت معلوم نہیں ہو سکے گی۔ وہ انگلینڈ دورے کی تیاری کر رہے تھے۔‘‘
خراب فارم سے جدوجہد کر رہے تھے وراٹ کوہلی
یہ بھی حقیقت ہے کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے وراٹ کوہلی ٹیسٹ کرکٹ میں خراب فارم سے دوچار تھے۔ ان کے مداحوں اور کرکٹ ماہرین کا خیال ہے کہ وہ اپنی فارم میں واپسی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی حالیہ ون ڈے کارکردگی کو اس کی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔اس سال 9 ون ڈے اننگز میں وراٹ کوہلی نے 69 کی شاندار اوسط سے 552 رنز بنائے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محدود اوورز کی کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔دوسری جانب، ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی آخری 7 اننگز کا سب سے زیادہ انفرادی اسکور محض 36 رنز تھا۔ ان 7 اننگز میں وہ مجموعی طور پر صرف 85 رنز بنا سکے تھے۔ اس کے علاوہ، اپنی آخری 13 ٹیسٹ اننگز میں وہ صرف ایک مرتبہ نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔وراٹ کوہلی کی ٹیسٹ ریٹائرمنٹ کے پیچھے اصل وجہ کیا تھی، اس بارے میں ان کی جانب سے واضح بیان سامنے آنا اہم ہوگا۔ فی الحال وسیم جعفر کے بیان نے ہندوستانی کرکٹ میں اس فیصلے کو لے کر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

