امیتابھ بچن نے اپنی گرج دار آواز اور شاندار اداکاری کے ذریعے ہندی سنیما میں ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔ 11 اکتوبر 1942 کو الٰہ آباد (موجودہ پریاگ راج) میں پیدا ہونے والے امیتابھ بچن نے فلمی دنیا میں بے پناہ شہرت حاصل کی، لیکن ان کی زندگی کا ایک دور ایسا بھی آیا جب انہوں نے سیاست میں قدم رکھا۔ تاہم، سیاست میں ان کا سفر زیادہ طویل نہیں رہا۔ دوستی نبھانے کے لیے انتخاب لڑنے والے امیتابھ نے کامیابی کے باوجود جلد ہی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
راجیو گاندھی سے دوستی کی خاطر لڑا انتخاب
امیتابھ بچن کے والد ہری ونش رائے بچن ہندی ادب کے معروف شاعر تھے۔ ادبی ماحول میں پرورش پانے والے امیتابھ نے اپنی محنت اور صلاحیت کے بل پر فلمی دنیا میں مقام حاصل کیا۔ لیکن 1984 میں انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سب کو حیران کردیا۔ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد امیتابھ بچن اپنے بچپن کے دوست راجیو گاندھی کی حمایت میں سیاست میں آگئے۔ انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور راجیو گاندھی کے کہنے پر الٰہ آباد لوک سبھا سیٹ سے انتخاب لڑا۔اس انتخاب میں ان کا مقابلہ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ہیم وتی نندن بہوگنا سے تھا۔ امیتابھ بچن نے انہیں بڑے فرق سے شکست دی اور لوک سبھا پہنچ گئے۔ ان کی کامیابی سے ظاہر ہوا کہ فلمی دنیا میں ان کی مقبولیت کا اثر انتخابی میدان میں بھی نظر آیا۔
بوفورس تنازع کے دوران دیا استعفیٰ
سیاست میں امیتابھ بچن کا سفر جاری تھا، لیکن 1987 میں بوفورس معاملے کے دوران ان کا نام بھی خبروں میں آنے لگا۔ ان کے بھائی اجیتابھ بچن کا نام بھی اس تنازع سے جوڑا گیا۔ امیتابھ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی مخالفت کی، لیکن ذرائع ابلاغ میں مسلسل بحث اور سیاسی تنازع کے درمیان انہوں نے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔جولائی 1987 میں انہوں نے رکن پارلیمنٹ کا عہدہ چھوڑ دیا۔ بعد میں اس معاملے میں انہیں کلین چٹ مل گئی، لیکن اس وقت تک وہ فعال سیاست سے دور ہوچکے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے نہ کوئی انتخاب لڑا اور نہ ہی دوبارہ کسی سیاسی عہدے کی ذمہ داری سنبھالی۔
امر سنگھ سے بڑھی قربت، جیا بچن سیاست میں سرگرم
سیاست سے کنارہ کشی کے بعد امیتابھ بچن نے اپنی توجہ فلموں پر مرکوز رکھی۔ اسی دوران ان کی کمپنی اے بی سی ایل مالی بحران کا شکار ہوگئی۔ مشکل وقت میں سماجوادی پارٹی کے لیڈر امر سنگھ سے ان کی قربت بڑھی۔ بتایا جاتا ہے کہ امر سنگھ نے اس دور میں بچن خاندان کی مدد کی تھی۔دوسری جانب، امیتابھ بچن کی اہلیہ جیا بچن نے سماجوادی پارٹی کے ذریعے سیاست میں اپنی شناخت بنائی۔ سال 2004 میں وہ پہلی مرتبہ راجیہ سبھا کی رکن منتخب ہوئیں اور اس کے بعد سے سماجوادی پارٹی کی سیاست میں سرگرم رہیں۔
’دوست کی مدد کے لیے سیاست میں آیا تھا‘
ایک انٹرویو میں امیتابھ بچن نے سیاست میں آنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا فیصلہ جذباتی تھا۔ وہ اپنے دوست کی مدد کرنا چاہتے تھے، اسی لیے سیاست میں آئے۔ لیکن سیاست میں قدم رکھنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ وہاں صرف جذبات کی بنیاد پر آگے بڑھنا آسان نہیں ہے۔ اسی احساس کے بعد انہوں نے سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔امیتابھ بچن کا سیاسی سفر مختصر ضرور رہا، لیکن سیاست میں ان کی آمد اور پھر استعفے کا معاملہ آج بھی موضوعِ بحث بنتا ہے۔ انہوں نے دوست کی حمایت میں انتخاب لڑا، کامیابی حاصل کی اور بعد میں اپنے پسندیدہ شعبے، یعنی سنیما، کی طرف واپس لوٹ آئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




