تحریر: ڈاکٹر ایم رحمت اللہ
پروفیسر اشوک پرساد میموریل ایجوکیشنل ٹرسٹ (PAPMET) نے دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے اشتراک سے یونیورسٹی کے سر شنکر لال کنسرٹ ہال میں تیسرے پروفیسر اشوک پرساد میموریل لیکچر کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام میں مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کے 400 سے زائد طلبہ اور 200 سے زیادہ اساتذہ کے علاوہ ریسرچ اسکالرز، سابق طلبہ اور مدعو مہمانوں نے شرکت کی۔
یہ لیکچر شعبۂ کیمیا کے ممتاز اسکالر مرحوم پروفیسر اشوک کے. پرساد (1961–2023) کی یاد میں منعقد کیا گیا۔ حیاتیاتی نامیاتی کیمیا، قدرتی مرکبات کی ترکیب اور حیاتیاتی طور پر فعال مرکبات کے میدان میں ان کی خدمات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ ان کے نام 200 سے زائد تحقیقی مقالے اور 10 پیٹنٹ درج ہیں۔ یہ لیکچر سیریز سائنسی معیار، علمی رہنمائی اور علمِ کیمیا کی ترقی کے لیے ان کے عزم کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔
اس سال کے لیکچر کا موضوع تھا: ”فضلے سے دولت تک: ضائع شدہ کاربن سے لے کر خالص منفی اخراج والے سالمات، مواد اور صنعت سازی تک“۔ اس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح ضائع شدہ کاربن کو مفید کیمیائی مادّوں، صنعتی مواد اور مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس تصور میں صرف فضلے سے توانائی پیدا کرنے کے بجائے مفید کیمیائی مرکبات، مواد اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی تیاری پر زور دیا گیا۔
پروفیسر یوگیش سنگھ کا پیغام: ”دنیا سے سیکھیں، لیکن ہندوستان کے لیے حل تیار کریں“
پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ نے مرحوم پروفیسر اشوک پرساد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک استاد کی حقیقی میراث ان طلبہ میں زندہ رہتی ہے جنہیں وہ تعلیم دیتا، ان کی رہنمائی کرتا اور آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ انہوں نے اپنے استاد کی یاد میں ٹرسٹ قائم کرنے پر پروفیسر بی. کے. سنگھ کی ستائش کی اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے مستحق طلبہ کی مدد کے لیے وظائف فراہم کرنے کے PAPMET کے اقدام کا خیرمقدم کیا۔
ماحولیاتی اختراع کو ترقی اور معاشی خوش حالی کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے پروفیسر سنگھ نے یونیورسٹیوں سے اپیل کی کہ وہ تحقیق، تدریس اور کیمپس کی سرگرمیوں میں پائیدار ترقی کو بنیادی اہمیت دیں۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اور جدید طریقۂ کار تیار کرنا ضروری ہے۔ سال 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کا ہدف ایک صاف ستھرا اور پائیدار ملک بنانے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
طلبہ کو روایتی سوچ سے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہوئے انہوں نے اختراع اور صنعت و کاروبار کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق اور تخلیقی خیالات کو ایسے عملی حل میں تبدیل کیا جانا چاہیے جن سے معاشرے کو حقیقی فائدہ پہنچے۔ انہوں نے طلبہ میں اختراعی سوچ کو فروغ دینے اور اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کے لیے دہلی یونیورسٹی کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
اپنے پیغام کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر سنگھ نے کہا: ”دنیا سے سیکھیں، لیکن ہندوستان کے لیے حل تیار کریں۔“ ان کا یہ پیغام طلبہ اور محققین کو عالمی علم اور بہترین تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ہندوستان کی ضروریات، حالات اور قومی ترجیحات کے مطابق حل تیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
اس موقع پر شعبۂ کیمیا کے ریسرچ اسکالرز اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو ان کی تعلیمی کامیابیوں کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر راجندر سنگھ کا آبی تحفظ میں عوامی شراکت داری پر زور
پروگرام میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ’واٹر مین آف انڈیا‘ ڈاکٹر راجندر سنگھ، جو رامن میگسیسے ایوارڈ اور اسٹاک ہوم واٹر پرائز سے سرفراز ہو چکے ہیں، نے ہندوستان کے آبی نظام پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے دریاؤں کی بحالی اور روایتی آبی انتظامی نظام کو دوبارہ فعال بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
راجستھان میں عوامی شراکت داری سے انجام دیے گئے آبی تحفظ کے کاموں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کس طرح دیہات میں جوہڑ تعمیر کیے گئے اور اجتماعی کوششوں سے زیرِ زمین پانی کا انتظام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی علم اسی وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے جب مقامی برادریاں اسے اپناتی ہیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ آبی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے بیداری کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں۔
پروفیسر جی. ڈی. یادو کی فضلے سے مفید وسائل تیار کرنے کی ٹیکنالوجی پر روشنی
یادگاری لیکچر پدم شری پروفیسر گنپتی ڈی. یادو نے پیش کیا، جو فیلو آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز اور انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی، ممبئی کے سابق وائس چانسلر ہیں۔ انہوں نے زرعی باقیات، شہری ٹھوس کچرے، ضائع شدہ پلاسٹک اور صنعتی کاربن کو مفید کاربن اور کیمیائی مرکبات کے ذرائع کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات بیان کیے۔
انہوں نے کیمیائی ری سائیکلنگ، پائرولیسس، گیسیفیکیشن، کیٹالیسس، کاربن کیپچر اور استعمال، نیز کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مفید مصنوعات میں تبدیل کرنے جیسی ٹیکنالوجیز پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر یادو نے کہا کہ سرکلر کاربن معیشت کی ترقی کے لیے کیٹالیسس، بایو ٹیکنالوجی، میٹریل سائنس، گرین ہائیڈروجن، کاربن کیپچر و استعمال، صنعتی عمل کی بہتری اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں کے درمیان تعاون ضروری ہوگا۔
دونوں ممتاز مقررین کے خیالات نے پائیدار ترقی کے دو اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا: عوامی شراکت داری پر مبنی ماحولیاتی تحفظ اور سائنسی اختراع۔
پروگرام کا آغاز چراغ روشن کرنے اور سرسوتی وندنا سے ہوا۔ اس کے بعد پروفیسر اشوک پرساد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، دہلی یونیورسٹی کا کُل گیت پیش کیا گیا اور ”جرنی آف پروفیسر اشوک پرساد“ کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ شعبۂ کیمیا کے سربراہ پروفیسر راجیو گپتا نے استقبالیہ خطاب کیا۔ PAPMET کے صدر اور ویاٹریس فارما کے سابق گلوبل ہیڈ (API) ڈاکٹر چندر ہس کھنڈوری نے ٹرسٹ کے قیام اور اس کے کردار سے سامعین کو واقف کرایا۔
پروگرام کا اختتام دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے پروفیسر اور PAPMET کے سکریٹری پروفیسر بی. کے. سنگھ کے کلماتِ تشکر اور قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔
PAPMET کے بارے میں
پروفیسر اشوک پرساد میموریل ایجوکیشنل ٹرسٹ (PAPMET) کا قیام مرحوم پروفیسر اشوک پرساد کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ٹرسٹ سیمیناروں، ورکشاپس اور تعلیمی پروگراموں کے ذریعے سائنس کی تعلیم اور تحقیقی تربیت کو فروغ دیتا ہے۔ مستقبل میں مستحق اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے وظائف اور مالی امداد فراہم کرنا بھی اس کے منصوبوں میں شامل ہے۔ ٹرسٹ کی سرگرمیاں علم، ترقی اور آزادی کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



