جن سوراج کے بانی پرشانت کشور بدھ کو نوادہ پہنچے، جہاں انہوں نے آئندہ پٹنہ گریجویٹ انتخابی حلقے کے امیدواروں کی حمایت میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے بہار کی این ڈی اے حکومت، وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو مختلف مسائل پر نشانہ بنایا۔ پرشانت کشور نے بے روزگاری، نوجوانوں کی نقل مکانی اور ریاست میں سیلاب کی صورتحال کے معاملے پر حکومت پر سوال اٹھائے۔
سیلاب کے درمیان دیے جلانے پر سوال
مرکز اور ریاستی حکومت کی ’وکست بھارت‘ مہم پر طنز کرتے ہوئے پرشانت کشور نے کہا کہ بہار کا ایک بڑا حصہ شدید سیلاب کی زد میں ہے اور لاکھوں لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب جشن کے نام پر دیے جلائے جا رہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ریاست کے عوام ہی مسائل کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں تو ترقی کا یہ دکھاوا کس کے لیے کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کئی علاقوں سے خود وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی تصاویر تک غائب ہونے لگی ہیں۔
بے روزگاری اور نقل مکانی پر حکومت کو گھیرا
نوجوانوں کی نقل مکانی اور بے روزگاری کے معاملے پر پرشانت کشور نے کہا کہ بہار کے نوجوان آج بھی روزگار کی تلاش میں دوسری ریاستوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ حکومت صرف کاغذی اور بڑے بڑے دعوے کرنے میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام اب سب کچھ سمجھ چکی ہے اور آنے والے انتخابات میں ان ناکامیوں کا حساب لے گی۔
نیرج کمار پر بھی نشانہ
پٹنہ گریجویٹ انتخابی حلقے سے جے ڈی یو امیدوار نیرج کمار کو نشانہ بناتے ہوئے پرشانت کشور نے کہا کہ انہوں نے کیا کہا اور کیا کیا، یہ عوام سے پوشیدہ نہیں ہے۔
اننت سنگھ کی حمایت پر کیا بولے؟
مکوما کے رکن اسمبلی اننت سنگھ کی جانب سے جن سوراج کی حمایت کیے جانے کے سوال پر پرشانت کشور نے کہا کہ اگر کوئی شخص یا لیڈر پارٹی کے ساتھ جڑنا اور حمایت کرنا چاہتا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن سوراج سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔پرشانت کشور کے ان بیانات کے بعد نوادہ سمیت بہار کی سیاست میں سرگرمیاں مزید تیز ہوگئی ہیں۔ ان کے خطاب میں بے روزگاری، نقل مکانی، سیلاب اور ریاستی حکومت کی کارکردگی جیسے مسائل نمایاں رہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



