نئی دہلی : دہلی کے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کی کوریج کے دوران صحافی روزی نے پولیس افسر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔ دہلی میں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر ایک خاتون کے ساتھ پولیس اہلکار کی مبینہ بدسلوکی کے واقعے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین واقعے میں مبینہ طور پر ملوث پولیس افسر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔متاثرہ خاتون روزی نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ روز نہا بورا کو حراست میں لیے جانے کے دوران وہ موقع کی ویڈیو بنا رہی تھیں۔ ان کے مطابق اس وقت وہاں کوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔ روزی نے بتایا کہ وہ ویڈیو میں یہ سوال کر رہی تھیں کہ ایک خاتون کو حراست میں لیتے وقت خاتون پولیس اہلکار کیوں موجود نہیں ہے۔
روزی کے مطابق موقع پر موجود اے سی پی وویک بھگت نے ان کی جانب دیکھا، ان کا سینہ پکڑا اور انہیں دھکا دیا۔ روزی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی افسر کی وردی پکڑ کر انہیں پیچھے کھینچا۔ ان کے مطابق افسر نے اس کے بعد بھی ان سے غیر سنجیدہ انداز میں بات کی، لیکن جب سے احساس ہوا کہ وہ وردی نہیں چھوڑیں گی تو وہ خاتون پولیس اہلکاروں کی جانب تیزی سے گیا اور انہیں روزی کو گھیرنے کی ہدایت دی، جس کے بعد وہ موقع سے چلا گیا۔روزی نے مزید الزام لگایا کہ بعد میں جب نہا بورا کو دوبارہ حراست میں لیا جا رہا تھا تو وہ واقعے کی ویڈیو بنانے کے لیے وہاں پہنچیں۔ ان کے مطابق وہ اسی پولیس افسر کے قریب کھڑی تھیں۔ روزی کا دعویٰ ہے کہ افسر نے خاتون پولیس اہلکار کو انہیں اپنے قریب نہ آنے دینے کی ہدایت دی، جس کے بعد خاتون اہلکار نے ان کا راستہ روک دیا۔
#WATCH | Delhi: Visuals from outside Parliament Street Police Station, where people are staging a protest following an alleged incident of misconduct by a police personnel with a woman.
Victim Rosie says, “Yesterday, during the protest involving Neha Bora, I was recording the scene as she was being detained; I noticed there were no female constables present at that moment. In my video, I questioned why there wasn’t a female constable while a woman was being detained. ACP Vivek Bhagat, who was there, looked at me and he grabbed my chest and pushed me… I grabbed his uniform and pulled him back… He continued to speak dismissively, but when he realized I wouldn’t let go, he quickly moved towards the female constables and ordered them to surround me… He fled the scene. Later, when Neha Bora was being detained again, I ran over to record the incident. I found myself standing right next to that same police officer… He instructs the female constable not to let me approach him; she then steps in to block my path… I was accompanied by other female journalists; I told them about the incident I had faced. We then tracked him down and approached him, asking him to apologize for his misconduct. He refused to apologize… We all gathered and came here to demand an FIR, citing the misconduct… No FIR has been registered, even though the law mandates that an FIR must be filed in cases of sexual harassment. My demand is that ACP Vivek Bhagat apologize on camera and admit to his actions, and that he be punished for this misconduct just as any offender should be.”
— ANI (@ANI) October 4, 2026
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے انہیں اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد سب نے مل کر متعلقہ افسر کو تلاش کیا اور ان سے مبینہ بدسلوکی پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، لیکن افسر نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔روزی کے مطابق، اس کے بعد تمام لوگ جمع ہو کر پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچے اور مبینہ بدسلوکی کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔متاثرہ خاتون نے مطالبہ کیا ہے کہ اے سی پی وویک بھگت کیمرے کے سامنے معافی مانگیں اور مبینہ طور پر کیے گئے اپنے عمل کا اعتراف کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے پولیس افسر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

