نئی دہلی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے تہران کو جوہری معاملے پر ٹھوس پیش رفت دکھانا ہوگی۔امریکی حکام نے سی این این سے گفتگو میں یہ معلومات دی ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ثالثوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
ثالثوں کے ذریعے مثبت بات چیت جاری
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکہ ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ مثبت اور تعمیری بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ جوہری معاملات کا حل نکالے بغیر کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تازہ پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔ ٹرمپ نے اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا تھا۔
اس ہفتے دوبارہ ہو سکتی ہے بات چیت
ٹرمپ نے اتوار کو ایکسیوس سے گفتگو میں کہا تھا کہ انہیں اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات ہونے کی امید ہے۔ امریکی عہدیدار کے مطابق، امریکہ کی جانب سے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے ایران کی پیشکش پر کہا تھا کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ وہ معاہدہ نہیں ہے جسے امریکہ قبول کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی موجودہ شرائط ایسی ہیں جن پر امریکہ شاید ایک سال پہلے رضامند ہو سکتا تھا، لیکن اب تہران نے اپنی پوزیشن کو ضرورت سے زیادہ آگے بڑھا دیا ہے۔
دونوں فریق ابھی اس بات پر متفق نہیں
امریکی عہدیدار کے مطابق ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جوہری معاملے پر اپنے مؤقف میں لچک دکھانے کے لیے تیار ہے۔ دونوں فریق ابھی اس بات پر متفق نہیں ہو سکے ہیں کہ ان وعدوں اور اقدامات کو کب اور کس مرحلے پر نافذ کیا جائے گا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات اب بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے کسی حتمی معاہدے کے لیے انہی معاملات پر ٹھوس پیش رفت کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے اتوار کو سی این این کے جیک ٹیپر سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش اس لیے مسترد کی کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ تہران مذاکرات کو سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔والٹز کے مطابق، ایران کی جانب سے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی تمام رعایتیں مانگنا امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔ دوسری جانب مذاکرات میں ثالثوں کی کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں اور دیگر شرائط پر اہم اختلافات برقرار ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

