گجرات کے کچھ کا کھاوڑا کبھی ایک دور دراز علاقہ سمجھا جاتا تھا، جہاں ڈاک پہنچانے کے لیے تقریباً 70 کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ اب یہاں تیزی سے بدلتی صورتحال کے درمیان ایک اور بڑی تبدیلی ہوئی ہے۔ کھاوڑا رینیوایبل انرجی پارک کو اپنا الگ پن کوڈ 370246 مل گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انڈیا پوسٹ کا اپنا ڈلیوری دفتر بھی شروع ہوگیا ہے۔ اب رینیوایبل انرجی پارک، کھاوڑا پوسٹ آفس کے ذریعے اسپیڈ پوسٹ اور پارسل کی بکنگ سے لے کر ڈلیوری تک کی سہولت حاصل کی جاسکے گی۔ اس کے علاوہ پوسٹ آفس سیونگس بینک اور انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک کی خدمات بھی دستیاب ہوں گی، جن میں آدھار سے منسلک ڈیجیٹل بینکنگ سہولت بھی شامل ہے۔
اڈانی گرین کے منصوبے سے بدل رہی ہے کھاوڑا کی شناخت
یہ تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کھاوڑا کی شناخت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ کبھی کم آبادی والے علاقے کے طور پر پہچانے جانے والے کھاوڑا کو اب ایک بڑے رینیوایبل انرجی ہب کے طور پر تیار کیا جارہا ہے۔ یہاں ملازمین کی تعداد بڑھ رہی ہے، رہائشی ٹاؤن شپ بن رہی ہیں اور لوگوں کی ضروریات کے مطابق بنیادی سہولیات میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ رینیوایبل انرجی پارک کو اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (AGEL) اور دیگر ڈویلپرز تیار کر رہے ہیں۔ AGEL کا پلانٹ تقریباً 538 مربع کلومیٹر کے وسیع علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ جاری کردہ معلومات کے مطابق کھاوڑا میں اڈانی گروپ کی جانب سے 10 گیگا واٹ سے زیادہ رینیوایبل انرجی صلاحیت پہلے ہی فعال کی جاچکی ہے، جبکہ AGEL کا ہدف 2029 تک اسے 30 گیگا واٹ تک پہنچانا ہے۔
اڈانی گرین انرجی پلانٹ میں تقریباً 15 ہزار ملازمین
اتنے بڑے پیمانے پر جاری ترقیاتی کاموں کے ساتھ کھاوڑا میں بنیادی ڈھانچے کو بھی وسعت دی گئی ہے۔ سڑکوں اور ڈرینیج نیٹ ورک کے ساتھ پانی کی فراہمی کے لیے ڈیسالینیشن اور ریورس اوسموسس کی سہولیات تیار کی گئی ہیں۔ AGEL کی جانب سے علاقے میں 200 کلومیٹر سے زیادہ آپٹیکل فائبر کنیکٹیویٹی بھی قائم کی گئی ہے، جس سے مواصلاتی سہولیات میں اضافہ ہوا ہے۔ جاری کردہ معلومات کے مطابق اڈانی گرین انرجی پلانٹ میں تقریباً 15 ہزار ملازمین اور اسٹاف سائٹ پر رہ رہے ہیں۔ بڑھتی آبادی کو دیکھتے ہوئے یہاں صحت کی سہولیات، ریٹیل آؤٹ لیٹس، تفریحی مقامات اور بینکنگ خدمات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ تاہم، ڈاک کی سہولت علاقے میں ہونے والی اس تیز رفتار ترقی کے مقابلے میں اب تک پیچھے تھی۔ کھاوڑا میں ڈاک کی خدمات تقریباً 70 کلومیٹر دور واقع پوسٹ آفس اور کُران برانچ پوسٹ آفس کے ذریعے چل رہی تھیں۔ جیسے جیسے رینیوایبل انرجی پارک پھیلتا گیا اور یہاں رہنے اور کام کرنے والوں کی تعداد بڑھی، الگ ڈاک سہولت کی ضرورت بھی محسوس ہونے لگی۔
پن کوڈ 370246 سے کھاوڑا کو ملی الگ ڈاک شناخت
اب پن کوڈ 370246 ملنے کے بعد رینیوایبل انرجی پارک کی اپنی الگ ڈاک شناخت بن گئی ہے اور یہ براہِ راست انڈیا پوسٹ کے ڈلیوری نیٹ ورک سے جڑ گیا ہے۔ اس سے سائٹ پر کام کرنے والے کاروباری اداروں، ملازمین اور سروس فراہم کرنے والوں کی روزمرہ ڈاک اور دیگر ضروریات پوری کرنے میں آسانی ہوگی۔ پن کوڈ صرف خطوط یا پارسل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والا نمبر نہیں ہے بلکہ بینکنگ، انشورنس، لاجسٹکس اور ای کامرس جیسی خدمات میں بھی اس کی اہمیت ہے۔ اس لحاظ سے 370246 کھاوڑا کو ایک الگ جغرافیائی شناخت بھی فراہم کرتا ہے۔ کبھی جہاں ڈاک کے لیے تقریباً 70 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا تھا، اسی کھاوڑا کو اب اپنا پن کوڈ مل چکا ہے۔ 370246 اس بدلتے ہوئے علاقے کی تصویر میں ایک اور اہم اضافہ ہے، جہاں رینیوایبل انرجی منصوبوں کی توسیع کے ساتھ بنیادی ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




