نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع اب سیاسی حلقوں سے نکل کر عوامی سطح پر بھی بحث کا موضوع بنتا جا رہا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا ہے کہ اس پورے معاملے کو اب محض اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے درمیان سیاسی کشمکش کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق انتخابی عمل کی ساکھ اور اس پر اٹھنے والے سوالات براہِ راست عام شہریوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ نئی دہلی میں گفتگو کے دوران منوج جھا سے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے مواخذے کی تیاری کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ مواخذہ آئینی راستہ ہے اور اپوزیشن اس سلسلے میں تجویز پہلے ہی سامنے لا چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق عدالت کے سامنے موجود حقائق اور شواہد کی بنیاد پر سپریم کورٹ اس معاملے کا ازخود نوٹس بھی لے سکتی ہے۔
انتخابات سے زیادہ انتخابی عمل کی ساکھ کا سوال
منوج جھا نے کہا کہ اب بحث صرف اگلے انتخابات یا کسی ایک انتخابی نتیجے تک محدود نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ملک کے انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد کس طرح برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہری بھی اس معاملے کو لے کر اپنی حکمت عملی اور ردعمل طے کریں گے۔ آر جے ڈی رکن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سوالات صرف اپوزیشن کی جانب سے نہیں اٹھ رہے بلکہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) میں شامل کچھ جماعتوں کی طرف سے بھی اس معاملے پر سوال سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر چراغ پاسوان اور رکن پارلیمنٹ اپیندر کشواہا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کی جانب سے بھی اس معاملے پر بات سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے آندھرا پردیش کے اہم اپوزیشن لیڈر جگن موہن ریڈی کی جانب سے تقرری کے عمل سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا بھی حوالہ دیا۔ منوج جھا کا کہنا تھا کہ ان سوالات کو محض مسترد کرنے کے بجائے ان کا سنجیدگی سے جواب دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق انتخابات جیسے حساس آئینی عمل سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر وضاحت ضروری ہے۔
سمک بھٹاچاریہ کی ’پدم بھوشن‘ کی مانگ پر طنز
اس دوران مغربی بنگال بی جے پی کے صدر سمک بھٹاچاریہ کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو پدم بھوشن دیے جانے کی مانگ پر بھی منوج جھا نے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اس مطالبے پر طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر سمک بھٹاچاریہ کے پاس اتنی معلومات اور سمجھ ہے تو انہیں تو بھارت رتن بھی مل جانا چاہیے۔ منوج جھا نے بعض الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے سے متعلق خبریں مسلسل سامنے آتی رہی ہیں اور ان کی تردید بھی نہیں کی گئی، اس کے باوجود ایسی مانگ کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ عوام اس پورے معاملے کے سیاسی معنی اپنے طور پر اخذ کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



