نئی دہلی : تلنگانہ کے عادل آباد میں واقع راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ریمز) اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے سے ایک نومولود بچے کی موت ہو گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، جس کے بعد پورا وارڈ دھویں سے بھر گیا۔ واقعہ آدھی رات کے بعد پیش آیا، جب وارڈ میں علاج کے لیے 28 بچے داخل تھے۔اسپتال کے عملے اور بچوں کے تیمارداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو وارڈ سے باہر نکالا اور انہیں مختلف نجی اسپتالوں میں منتقل کیا۔ باقی بچوں کو محفوظ بتایا جا رہا ہے۔
اے سی میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے کا شبہ
عادل آباد ٹو ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کے. ناگ راجو کے مطابق ابتدائی طور پر شبہ ہے کہ آگ اے سی میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، تاہم واقعے کی اصل وجہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کے وقت وارڈ میں 23 بچے موجود تھے، تاہم پولیس نے سرکاری طور پر کسی کی موت یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ البتہ ایک بچے کی موت کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ نومولود بچے کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے۔
نجی اسپتالوں میں منتقل کیے گئے بچے
واقعے کی اطلاع ملتے ہی عادل آباد کے ڈسٹرکٹ کلکٹر راجرشی شاہ اور ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکھل مہاجن فوری طور پر ریمز اسپتال پہنچے۔ ریمز کے ڈائریکٹر جے سنگھ راٹھوڑ بھی موقع پر موجود تھے۔افسران نے اسپتال کے حالات کا جائزہ لیا اور عملے سے آگ لگنے کے واقعے اور بچوں کو بچانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ فائر بریگیڈ کی ٹیم بھی فوری طور پر موقع پر پہنچی اور آگ پر قابو پا لیا۔آگ کے بعد وارڈ میں موجود دیگر بچوں کو مختلف نجی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
اسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات پر سوال
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اسپتال میں برقی آلات کی دیکھ بھال اور فائر سیفٹی کے لیے مقررہ اصولوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی جانچ کی جا رہی ہے۔حکام نے واقعے کی تحقیقات کے احکامات دے دیے ہیں۔ تحقیقات کے بعد تفصیلی رپورٹ پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ اسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ آگ سے حفاظت کے تمام ضابطوں پر مکمل عمل یقینی بنایا جائے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

