Bharat Express DD Free Dish

Pricing Carbon To Defend Exports: یورپی ٹیکس کا توڑ بنا بھارت کا ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ سسٹم‘، برآمد کنندگان کو ملے گی بڑی راحت

بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس سے 490 سے زیادہ بڑے صنعتی اداروں کو اپنے کاربن اخراج کی قیمت ادا کرنا ہوگی، ساتھ ہی بھارتی برآمد کنندگان کو یورپی ممالک کے بھاری ٹیکس سے بھی راحت مل سکے گی۔

بھارت اب صرف آلودگی کی پیمائش تک محدود نہیں رہا بلکہ فضا میں شامل کاربن کے لیے براہِ راست قیمت طے کرنے کی سمت میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ اکتوبر سے ملک کی پہلی تعمیری کاربن مارکیٹ شروع ہونے والی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑی کمپنیوں سے لے کر کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں تک، سب کو اپنے کاربن اخراج اور اس کی لاگت کا حساب رکھنا ہوگا۔

فیکٹریوں پر لگے گا کاربن ٹیکس

اب تک تقریباً 490 بڑی کمپنیوں، چاہے وہ ایلومینیم کے کارخانے ہوں یا سیمنٹ کی بھٹیاں، کو حکومت کو یہ رپورٹ دینا پڑی ہے کہ ایک ٹن مصنوعات تیار کرنے میں وہ کتنا کاربن خارج کر رہی ہیں۔ اس منصوبے کو ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پہلے جہاں صرف بجلی کی بچت پر زور دیا جاتا تھا، اب براہِ راست کاربن اخراج کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اگر کوئی کمپنی اپنے مقررہ ہدف کو پورا نہیں کر پاتی تو اسے بازار سے کاربن کریڈٹ خریدنے ہوں گے یا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ جرمانے کی رقم بھی اس انداز میں مقرر کی گئی ہے کہ کمپنی کے لیے کاربن کریڈٹ خریدنا نسبتاً سستا ثابت ہو سکتا ہے۔ بازار کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایک ٹن کاربن کی قیمت 600 سے 900 روپے کے درمیان ہو سکتی ہے۔

غیر ملکی ٹیکس سے بچانے والی ڈھال

اس پوری مشق کے پیچھے ایک بڑی وجہ بین الاقوامی تجارت بھی ہے۔ یورپی یونین نے اپنی سرحدوں پر ’کاربن بارڈر ٹیکس‘ نافذ کر دیا ہے۔ چونکہ بھارتی اسٹیل اور ایلومینیم کی تیاری میں کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کا استعمال زیادہ ہوتا ہے، اس لیے وہاں بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس نظام کے تحت اگر کسی بھارتی برآمد کنندہ نے اپنے ملک میں پہلے ہی کاربن کی قیمت ادا کر دی ہے تو اسے یورپ میں رعایت مل سکتی ہے۔ یعنی جو رقم ٹیکس کی شکل میں بیرون ملک جا سکتی تھی، وہ ملک کے اندر ہی رہ سکے گی۔

کھیتوں سے بھی آمدنی کی امید

دھویں سے بھرے کارخانوں کے برعکس اس منصوبے کا ایک دلچسپ پہلو ملک کے کھیتوں میں بھی نظر آ رہا ہے۔ دھان کی کاشت سے خارج ہونے والی میتھین گیس کو کم کرنے اور درختوں کی کاشت یعنی زرعی جنگلات کو فروغ دے کر چھوٹے کسانوں کو بھی اس کاربن مارکیٹ سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بجٹ میں اس کے لیے 20,000 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ جو کسان روایتی کاشت کاری کے بجائے کاربن کریڈٹ فراہم کرنے والے طریقے اپنائیں گے، ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ کسان پیداوار تنظیمیں بغیر کسی درمیانی واسطے کے مناسب قیمت کسانوں تک پہنچا پاتی ہیں یا نہیں۔ بھارت کی یہ کاربن مارکیٹ ملکی سطح پر ایک بڑی تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں بھارتی مصنوعات کی مسابقتی حیثیت برقرار رکھنے کی ایک حکمت عملی بھی سمجھی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read