Bharat Express DD Free Dish

SP Workers Protest in Delhi: اعظم خان کی حمایت میں دہلی میں ایس پی کارکنوں کا احتجاج، کہا- ’سازش کے تحت درج ہوئے 350 مقدمات

احتجاج کے دوران سماج وادی پارٹی کے لیڈران پی ایم کے نام ایک میمورنڈم بھی لے کر پہنچے۔ اس میمورنڈم میں کہا گیا کہ ایک ہی خاندان کے خلاف اتنے کم عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کا درج ہونا بادی النظر میں سیاسی انتقام اور انتظامی اختیارات کے غلط استعمال کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔

نئی دہلی: اتر پردیش کے سابق وزیر اعظم خان کی حمایت میں سماج وادی پارٹی کے کارکنوں نے اتوار کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کیا۔ ایس پی کارکنوں نے اعظم خان کی رہائی اور ان کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت منسوخ کرنے کا الزام

سماج وادی پارٹی کے قومی سکریٹری اور جونپور کے سابق رکن اسمبلی محمد ارشد خان کی قیادت میں پارٹی کارکن اتوار کے روز جنتر منتر پہنچے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں جنتر منتر پر پرامن احتجاج کرنے سے روک دیا گیا۔ اس کے بعد سماج وادی پارٹی کے کارکنوں نے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر علامتی احتجاج کیا۔ محمد ارشد خان نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس احتجاج کی اجازت تھی، لیکن پولیس نے اچانک اسے منسوخ کر دیا۔ جب ہم لوگ یہاں احتجاج کرنے پہنچے تو پولیس نے چاروں طرف بیریکیڈنگ کرکے راستے بند کر دیے۔

اعظم کے خلاف 350 مقدمات سیاسی سازش کا نتیجہ

انہوں نے کہا کہ 2019 میں تمام سازشوں کے باوجود اعظم خان کو کامیابی ملی تھی۔ اس کے بعد اگلے چند ماہ میں ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خلاف تقریباً 350 مقدمات درج کر دیے گئے۔ اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کا درج ہونا سرکاری سازش کا نتیجہ تھا۔ اعظم خان اور ان کے خاندان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

جوہر یونیورسٹی کے 38 عمارتوں کے انہدام کا معاملہ

محمد ارشد خان نے مزید کہا کہ رامپور کی جوہر یونیورسٹی قانونی طریقے سے قائم کی گئی ہے، لیکن تقریباً تین ماہ قبل اس کی 38 عمارتوں کے انہدام کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ نوٹس غلط طریقے سے دیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہدام کا نوٹس واپس لیا جائے۔

جوہر یونیورسٹی کے 38 عمارتوں سے متعلق معاملہ فی الحال قانونی کارروائی کے مرحلے میں ہے۔ رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے جولائی میں 40 میں سے 38 عمارتوں کو غیر مجاز تعمیر قرار دیتے ہوئے انہدام کا حکم جاری کیا تھا۔ بعد میں مرادآباد کے ڈویژنل کمشنر کی عدالت نے انہدام کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی تھی، جبکہ اس معاملے پر اگلی سماعت 25 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کے نام میمورنڈم کیا گیا پیش

 احتجاج کے دوران سماج وادی پارٹی کے لیڈران پی ایم کے نام ایک میمورنڈم بھی لے کر پہنچے۔ اس میں کہا گیا کہ 2019 میں صرف تین سے چار ماہ کی مختصر مدت کے دوران اعظم خان، عبداللہ اعظم خان اور ان کے اہل خانہ کے خلاف تقریباً 350 فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ میمورنڈم میں کہا گیا کہ ایک ہی خاندان کے خلاف اتنے کم عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کا درج ہونا بادی النظر میں سیاسی انتقام اور انتظامی اختیارات کے غلط استعمال کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔ اس میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا یہ مقدمات حقیقی جرائم کی بنیاد پر درج کیے گئے یا سیاسی مخالفت کی قیمت وصول کرنے کے لیے کارروائی کی گئی۔

’38 عمارتوں کے انہدام کا نوٹس منسوخ کرنے کا مطالبہ

 محمد ارشد خان نے میمورنڈم میں کہا کہ رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا سوال ہے۔ ان کے مطابق، یہ معاملہ صرف عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، تحقیق اور روزگار سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہدام کا نوٹس فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور حتمی فیصلے تک کسی بھی انہدامی کارروائی پر روک برقرار رکھی جائے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read