نئی دہلی : آئی آئی ٹی بمبئی میں ایک طالب علم کی موت پر سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دور دراز کے قبائلی علاقوں میں بھی طلبہ کی جان جا رہی ہے اور ممبئی جیسے بڑے شہر میں بھی۔ یہ بحران ہر جگہ پھیل چکا ہے۔ طلبہ کی زندگیوں کو ترجیح دینے سے پہلے آخر کتنے مزید طلبہ کو اپنی جان گنوانی پڑے گی؟آئی آئی ٹی بمبئی کے پووائی کیمپس میں جمعہ کو دوسرے سال کے ایک طالب علم کی موت سے ہلچل مچ گئی۔ طالب علم شعبہ توانائی سائنس و انجینئرنگ میں بی ٹیک کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ ادارے کے مطابق، اسی روز امتحان کے دوران اسے موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ آئی آئی ٹی بمبئی نے بتایا کہ طالب علم نے امتحانی سوالنامہ چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کرکے اس کے جوابات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
آئی آئی ٹی بمبئی نے بیان میں کیا کہا؟
امتحان کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کے بعد طالب علم کی موت ہوگئی۔ تاہم، آئی آئی ٹی بمبئی نے واضح کیا ہے کہ طالب علم کے خلاف کوئی باقاعدہ تادیبی کارروائی شروع نہیں کی گئی تھی۔ادارے کے مطابق، شعبے کے سربراہ اور امتحان سے متعلق استاد نے طالب علم سے بات کی تھی اور اسے سمجھایا تھا کہ اس واقعے سے اس کے تعلیمی مستقبل پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ اس کے بعد طالب علم اپنے ہاسٹل کے کمرے میں واپس چلا گیا، جہاں بعد میں وہ مردہ پایا گیا۔
واقعے کے بعد کیمپس میں طلبہ کا احتجاج
طالب علم کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد آئی آئی ٹی بمبئی کیمپس میں طلبہ نے احتجاج کیا۔ رپورٹس کے مطابق، 400 سے زائد طلبہ اس احتجاج میں شامل ہوئے۔ طلبہ نے انتظامیہ سے واقعے کے بارے میں جواب اور طلبہ کے لیے بہتر معاونتی نظام کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے بعد جاری وسط مدتی امتحانات کو بھی ملتوی کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔آئی آئی ٹی بمبئی نے طالب علم کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ادارے نے کہا کہ واقعے کے حالات کی متعلقہ حکام جانچ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ادارے نے طالب علم کے دوستوں، ہم جماعتوں، اساتذہ اور واقعے سے متاثر دیگر افراد کو ضروری مدد فراہم کرنے کی بات کہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
