نئی دہلی : مرکز کے زیر انتظام خطے چنڈی گڑھ میں اہم نجی رائیڈ ہیلنگ کیب پلیٹ فارموں پر انتظامی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد شہری ٹرانسپورٹ نظام اور ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی پر سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے۔ کئی معروف نجی رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارموں کے پہیے رکنے کے بعد شہر میں فی الحال حکومت کی حمایت یافتہ بھارت ٹیکسی ہی خدمات فراہم کر رہی ہے۔اس صورتحال نے ایک بڑا پالیسی سوال بھی کھڑا کردیا ہے کہ کیا چنڈی گڑھ کا سفری سہولیات کا بازار براہ راست اجارہ داری کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں نجی حریفوں کو باہر کرکے صرف ایک پلیٹ فارم کو فائدہ پہنچ رہا ہے؟
ڈرائیوروں پر دوہری مار، گاڑی کی قسط سے بچوں کی فیس تک کا بحران
اس پورے معاملے کا سب سے زیادہ اثر ان کیب ڈرائیوروں پر پڑا ہے ،جو دن رات گاڑی چلا کر اپنے خاندان کا خرچ چلاتے ہیں۔ رائیڈ ہیلنگ ہزاروں ڈرائیوروں کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔ کئی دنوں سے بکنگ بند ہونے کی وجہ سے ڈرائیوروں کے لیے گاڑی کی ماہانہ قسط، بیمہ، دیکھ بھال اور روزمرہ کے ایندھن کا خرچ پورا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔اس کے ساتھ بچوں کی اسکول فیس اور راشن جیسے بنیادی گھریلو اخراجات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ پلیٹ فارم معیشت کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ڈرائیور اپنی سہولت اور بہتر آمدنی کے مطابق کسی بھی ایپ کا انتخاب کرسکتے تھے، لیکن موجودہ پابندیوں نے ان سے یہ بنیادی آزادی بھی چھین لی ہے۔
ٹرائی سٹی کے مسافروں کے اختیارات محدود
چنڈی گڑھ، موہالی اور پنچکولہ پر مشتمل ٹرائی سٹی میں رائیڈ ہیلنگ خدمات روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ صبح دفاتر اور کالج جانے والے ملازمین اور طلبہ سے لے کر ہنگامی حالات میں اسپتال پہنچنے، رات دیر گئے ریلوے اسٹیشن اور ہوائی اڈے جانے اور آخری فاصلے کی سفری سہولت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ ان ایپس پر منحصر ہیں۔جب بازار میں متعدد خدمات دستیاب تھیں تو مسافر کرایوں، کیب کی دستیابی اور انتظار کے وقت کا موازنہ کرکے اپنی پسند کی سروس منتخب کرسکتے تھے۔ اب مسابقتی پلیٹ فارموں کے ہٹنے کے بعد مسافروں کو مجبوری میں صرف ایک سروس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کے انتخاب کے اختیارات محدود ہوگئے ہیں۔
ایک پر نرمی، دوسرے پر سختی، اجارہ داری کا سوال
اس پورے تنازع کی بنیادی وجہ ضابطوں سے متعلق اختلافات بتائے جا رہے ہیں۔ نجی کیب ایگریگیٹرز پر ضابطہ کاری اور کرایوں سے متعلق رسمی تقاضوں کا حوالہ دے کر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جب کہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ حکومت کی حمایت یافتہ بھارت ٹیکسی کا کرایہ طے کرنے کا نظام بھی انہی مقررہ کرایوں کے ضوابط پر پورا اترتا ہے یا نہیں، یہ پوری طرح واضح نہیں ہے۔اگر دونوں کے لیے ضابطے ایک جیسے ہیں تو پھر نجی حریفوں کو روک کر صرف ایک پلیٹ فارم کو کام کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ چنڈی گڑھ جیسے جدید شہر میں مسابقت کی کمی سے سروس کے معیار، تکنیکی بہتری اور حفاظتی ضوابط پر بھی اثر پڑنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ضابطوں کے ساتھ صحت مند مسابقت ضروری
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے شفاف ہونے چاہئیں اور تمام آپریٹرز پر یکساں طور پر لاگو کیے جانے چاہئیں۔ کسی بھی مسافر کو متبادل خدمات کے فقدان میں صرف ایک سروس پر انحصار کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ضروری ہے کہ اس تعطل کا جلد حل نکالا جائے، تاکہ بحران کا سامنا کرنے والے کیب ڈرائیوروں کی آمدنی دوبارہ بحال ہوسکے اور چنڈی گڑھ کے باشندوں کو اپنی پسند کے مطابق سفری سہولیات کے متبادل دوبارہ دستیاب ہوں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
